تاریخ انصاراللہ (جلد 2)

by Other Authors

Page 119 of 492

تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 119

119 (حضور نے دھیمی آواز میں لا إلهَ إِلَّا الله متعدد بار دہرایا اور پھر فرمایا ) لَا إِلهَ إِلَّا الله - اٹھتے لا إلهَ إِلَّا الله اٹھتے بیٹھتے چلتے پھرتے پڑھتے رہیں۔اس ندا کے ساتھ اس صدی کو الوداع کہیں اور اسی ندا کے ساتھ ہم اگلی صدی کا استقبال کریں گے۔انشاء اللہ تعالی۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ۔اللہ تعالیٰ آپ کا حافظ و ناصر ہو۔(آمین) (۴۰) اس سے پہلے حضور نے انصار کا عہد دہراتے وقت بھی کلمہ شہادت ادا کرنے کے بعد بآواز بلند نہایت جذبہ اور جوش کے ساتھ لا إلهَ إِلَّا الله کا ورد فرمایا۔ساتھ ساتھ احباب جماعت نے بھی حضور کی اقتدا میں یہ با برکت کلمہ آٹھ بار اسی جذب و شوق کے ساتھ دوہرایا۔۴۱) رام حضور کی تقریر کا انگریزی میں رواں ترجمہ نشر کرنے کا کامیاب تجربہ ۱۳۱ خاء / اکتوبر کو سالانہ اجتماع کے پہلے روز حضرت خلیفتہ اسیح الثالث کی تقریر کا انگریزی ترجمہ بعض سامعین تک پہنچانے کا کامیاب تجربہ کیا گیا۔تین احمدی انجینئروں نے کمال فنی مہارت اور خلوص سے کام کر کے ابتدائی مرحلہ کامیابی کے ساتھ مکمل کیا اور اٹھارہ افراد نے حضور کے افتتاحی خطاب کا انگریزی ترجمہ کامیابی سے سُنا۔فضل عمر فاؤنڈیشن کی مالی سر پرستی اور حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب کی نگرانی میں اس زیر تکمیل منصوبے کے تحت جلسہ سالانہ پر بیرونی ملکوں سے تشریف لانے والے مہمانوں کی سہولت کے پیش نظر دو زبانوں میں ۲۲۰ مردوں اور عورتوں کے لئے انگریزی اور انڈونیشین زبان میں ترجمے کا بندوبست کرنے کا پروگرام تھا۔یہ سارا کام تین احمدی انجینئروں نے حیرت انگیز طور پر کم خرچ میں مکمل کیا۔ابتداء میں اس سلسلے میں جب ایک کمپنی سے رابطہ قائم کیا گیا تھا تو انہوں نے سو افراد کو ایک زبان میں ترجمہ مہیا کرنے پر میں لاکھ کا خرچہ مانگا تھا جبکہ احمدی انجینئروں نے صرف ایک لاکھ روپے کے خرچ سے دوزبانوں میں ۲۲۰ افراد تک ترجمہ پہنچانے کا بندوبست کر لیا۔اس مقصد کے لئے ایک مترجم کا کیبن بنایا گیا جس میں ترجمہ کرنے والا بیٹھتا تھا جو کہ ہیڈ فون کے ذریعہ اردو تقریر سنتا اور ساتھ ساتھ ترجمہ کرتا جاتا۔یہ انگریزی ترجمہ کیبن کے باہر بیٹھے ہوئے ان سامعین کے کانوں تک پہنچایا گیا جو کہ سیاہ رنگ کے ہیڈ فون کانوں سے لگا کر بیٹھے ہوئے تھے۔ہر نمائندے کے سامنے ایک ٹرمینل باکس رکھا گیا جس سے وہ آواز کو بلند یا کم کر سکتا تھا۔اجتماع انصار اللہ پر یہ کام تجرباتی طور پر کیا گیا۔بعد میں جلسہ سالانہ پر اس میں توسیع کی گئی۔یہ منصوبہ اسی سال جنوری فروری میں شروع کیا گیا۔اس کام میں جن تین احمدی انجینئروں نے حصہ لیا ان میں مکرم منیر احمد صاحب فرخ ہمکرم ملک لال خان صاحب اور مکرم کیپٹن ایوب احمد ظہیر صاحب شامل تھے۔وائرلیس کے کام میں مکرم عبد الکریم صاحب لودھی نے تعاون کیا نیز لکڑی کا سارا کام بھی انہوں نے ہی سرانجام دیا۔اس سسٹم کا سارا نظام اور مشینری کی ترتیب احمدی انجینئروں نے خود کی۔صرف ایک