تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 92
۹۲ تھے۔ناکہ بندی کی ہوئی تھی۔یہ آپ کا کراچی، اس کے اگر باہر کے رستے بند ہو جائیں کسی وجہ سے، کراچی کی کیا کیفیت ہوگی۔آپ کی اتنی چیزیں ہر روز باہر سے آ رہی ہیں۔یعنی ہزار ہاشن کھانے کی چیزیں کراچی کے اندر باہر سے آ رہی ہیں، ریل کے ذریعے ٹرکوں کے ذریعے ، گھوڑے گاڑیوں کے ذریعے، کشتیوں کے ذریعے مچھلی پکڑی ہوئی اور بہت ساری چیزیں آ رہی ہیں۔اُنہوں نے ناکہ بندی کر دی۔اللہ تعالی نے پیار کا نشان دکھا کے حوصلے بلند رکھے اللہ تعالیٰ نے ہر جگہ پیار کا نشان دکھا کے اُن کے حوصلے بلندر کھے اور یہی اُس کا طریقہ ہے۔ایک دن ایک صحابی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے۔یہ تجربہ ہے انسان کا کہ بھوک جب بہت زیادہ تنگ کرے تو پتھر رکھ کے معدے پر کس دیں ، اوپر دباؤ ڈال دیں تو بھوک کا احساس بھی کم ہو جاتا ہے۔تو ایک صحابی آئے اُنہوں نے کہا یا رسول اللہ یہاں تک نوبت پہنچ گئی اور کرتا اُٹھا کے دکھایا کہ ایک پتھر باندھا ہوا تھا۔آپ نے کہا یہاں تک نہیں پہنچی۔یہاں تک پہنچ گئی۔آپ نے اُٹھایا اُس کو دکھانے کے لئے۔دو پتھر باندھے ہوئے تھے۔جس کا مطلب اُس کو بتانے کا یہ تھا کہ تمہیں جتنا بھوکا رکھ رہا ہوں، میں خدا کے حکم پر ، اُس سے ڈبل بھوک خود برداشت کر رہا ہوں۔یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا پیار تھا اُن سے جو اُن کی مسکراہٹیں قائم رکھتا تھا۔ایک صحابی کو بڑی سخت تکلیف تھی تلملا رہا تھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم بھوکے ہیں۔دوسرا اُن کے پاس آیا۔کان میں کہا کہ کھانا میرے ساتھ کھائیں۔گھر میں پوچھا بیوی سے کہ کیا ہے تیرے پاس۔جنگ احزاب کا ہی یہ واقعہ ہے۔اُس نے کہا تھوڑا سا آتا ہے اور ایک بکری کا بچہ بالکل چھوٹا سا۔اُنہوں نے کہا کہ یہ بچہ میں ذبح کر رہا ہوں۔آتا ہوں ابھی۔تو آٹا گوندھ لے، میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دعوت دینے جارہا ہوں۔بہت تکلیف ہے اور آکر آپ کو کان میں کہا تا کوئی اور سُن نہ لے۔وہ چل پڑے گا ساتھ۔اُس نے تو کان میں کہا تھا۔آپ نے اعلان کیا کہ لوگو ، اس تمہارے بھائی نے دعوت کی ہے۔آؤ چلیں اس کے گھر۔وہ بیچارہ کہنے لگا۔یا رسول اللہ میرے پاس اتنا نہیں ہے۔آپ نے کہا جاؤ۔دوڑ و گھر۔بیوی کو کہو آٹا گوندھ لے، روٹی نہ پکائے اور سالن تیار کرلے تقسیم نہ کرے۔یا وہ پرات بڑے استعمال کرتے ہیں، اُس میں نہ ڈالے۔پچاس ،سو آدمی ساتھ۔جن کو زیادہ بھوک لگی ہوئی تھی ، ساتھ ہو لئے۔وہاں گئے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آٹے کے اوپر دُعا کی اور اُس کو کہا کہ روٹیاں پکانی شروع کرو۔اور وہ دیگچے میں جو چھوٹے سے بکرے کا پکایا ہوا تھا سالن۔اب آپ نے تقسیم کرنا شروع کیا۔اور صحابہ کہتے ہیں ، ہم سب کا پیٹ بھر گیا اور