تاریخ انصاراللہ (جلد 2)

by Other Authors

Page 91 of 492

تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 91

۹۱ نڈر، بے خوف، قربانی دینے والی ، ہر لحاظ سے قربانی ، مالی قربانیاں دینے والی، خدا نے دیا بھی۔لیکن ایک وقت میں بڑی قربانیاں لیں۔یعنی مسلمانوں کو اڑھائی سال تک شعب ابی طالب میں محصور رہنا پڑا۔وہ بھی مسلمان تھے۔اُن کو بھو کا مارنے کا منصوبہ بنایا۔ساری ناکہ بندی کر دی۔اور خدا نے یہ کہا کہ تکلیف تو میں دوں گا بھوک کی اور پیاس کی۔مرنے نہیں دوں گا بھوک سے۔اللہ تعالیٰ کا یہ منصوبہ تھا۔تربیت اُن کی کر رہا تھا۔اس قدر تکلیف بھوک کی کہ سعد بن وقاص جو عشرہ مبشرہ میں سے ایک ہیں۔اُنہوں نے بیان کیا کہ ایک رات بالکل اندھیری رات تھی ، میں چل رہا تھا تو میری جوتی کے نیچے کوئی چیز آئی جو میں نے محسوس کیا کہ نرم ہے۔نرم چیز کو انسان نرم ہی محسوس کرتا ہے اور پتھر کو پتھر محسوس کرتا ہے۔کہتے ہیں اتنی بھوک تھی کہ میں نے دیکھا ہی نہیں کہ وہ کیا چیز ہے؟ میں نے پاؤں ہٹایا اور اُٹھایا اُس کو اور منہ میں ڈالا اور کھا گیا۔اس قسم کی انہوں نے کوفت اُٹھائی۔اور پھر جب دیا خدا نے تو یہی جنہوں نے نرم چیز اُٹھا کر منہ میں ڈال لی تھی ، ایک دن مدینے کی منڈی میں ایک لاکھ اونٹ کا ایک آدمی سے سودا کر لیا۔منڈی میں وہ لے آیا تھا لیکن نہ اُس نرم چیز کو دیکھا کہ کیا ہے؟ کیونکہ خدا نے پیدا کیا ہے، کام ہی دے گی مجھے۔اور نہ اس لاکھ اونٹ کے ساتھ محبت اور پیار کا اظہار کیا۔اُسی وقت ایک دوست آیا۔اُس نے کہا میرا ارادہ تھا، خواہش تھی کہ یہ میں خرید لوں۔یہ شخص مجھے رستے میں ملا تھا۔وہاں میں نے بات نہیں کی کیونکہ منڈی تک آنے سے پہلے بات کرنا منع ہے۔تو میرا دل کرتا تھا میں لے لوں۔انہوں نے کہا تم لے لو۔کس قیمت پر دو گے۔جس قیمت پر میں نے لیا ، صرف نکیل مجھے دے دو۔یعنی خدا نے ہر چیز دی تھی۔دماغ بھی دیا تھا کہ اگر ایک روپے کی نکیل تھی تو پانچ منٹ میں ایک لاکھ روپیہ بنالیا اور دوست کے ساتھ دوستی کا بھی مظاہرہ کیا یعنی ویسے ایک لاکھ اونٹ اگر دس روپے نفع پہ بیچتے، یہ بہت کم نفع ہے، قیمت بھی دس لاکھ روپے بنانے تھے۔باقی نفع چھوڑ دیا۔لیکن بنا بھی لیا۔دوست بھی خوش خدا بھی خوش، اپنا نفس بھی خوش اور الحمد للہ پڑھنے والا۔تو دولت بھی دی، دولت سے پیار نہیں کیا۔تنگی آئی ہنگی کو کچھ نہیں سمجھا۔کفار نے اپنی طرف سے یعنی ایک تو کوشش کی تیرہ سال اسلام کو مٹانے کی۔وہ اسلام کو مٹانے کی کوشش تھی۔جنگ احزاب میں اسلام کو مٹانے کی کوشش میں سارے عرب کو اکٹھا کر لیا تھا یہودیوں نے۔مکہ کی طاقت اور سارے قبائل عرب کی طاقت وہاں جمع ہو گئی تھی۔اور پہلے بتایا گیا تھا سَيُهُزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَتُونَ النُّبُرَ وہاں بھی یہی ہے جیسا میں نے بتایا کہ بھوکا رکھوں گا، بھوک سے ماروں گا نہیں۔جمع ہو جائیں گے سارے مگر تمہیں قتل نہیں کر سکتے۔بھاگ جائیں گے۔خدا نے معجزہ دکھایا۔بھاگ گئے وہاں سے لیکن وہ تو مارنے کے لئے آئے