تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 85
۸۵ اس میں تو ساری جماعت در اصل شامل ہونی چاہئیے۔مشکل ہمارے ملک کی یہ ہے کہ ہمیں خرید کے پڑھنے کی عادت نہیں۔اس کا مطلب یہ ہے کہ جن کو پڑھنے کی عادت ہے وہ بھی یہ سمجھتے ہیں کہ ہمیں مفت مل جائے تو پڑھ لیں گے ویسے نہیں پڑھیں گے۔سب دنیا میں ترقی کرنے والی جو قو میں ہیں وہ خود خرید کر پڑھتی ہیں۔انگلستان میں میں نے دیکھا ہے کہ ایک شخص گاڑی میں آ کے بیٹھا۔جہاں وہ بیٹھا، اس کے ساتھ کی سیٹ خالی پڑی ہے اور اس سیٹ کے اوپر وہ اخبار پڑا ہے جو وہ پڑھنا چاہتا ہے۔وہ اس کو اٹھا کے نہیں پڑھے گا۔وہ اگلے اسٹیشن پر اتر کے اپنا اخبار خرید کے لائے گا۔اور وہ اس اخبار کو پڑھ کر اس کو ردی سمجھ کر چھوڑ جائے گا۔ان کو اخبار خرید کر پڑھنے کی عادت ہے۔یہ ٹھیک ہے کہ چونکہ ایک بہت بڑا حصہ بڑی تحقیق کے بعد ILLUSTRATED تصویروں سے حقیقت بیان کرنے کے لئے کچھ لکھتا ہے۔مثلاً مصنف یہ بیان کرتا ہے کہ چالیس رنگ اس پرندے کے پروں میں ہیں۔کبھی انسان کے تصور میں یہ نہیں آتا۔وہ تصویر بنا دیتے ہیں اور لائبریریوں میں محفوظ کر دیتے ہیں۔انہوں نے لائبریریاں بنالیں۔لائبریریوں سے بھی مفت نہیں ملتا۔پیسے دے کے ممبر بننا پڑتا ہے نا۔اور ہر مہینے پیسے دینے پڑتے ہیں۔یا بعض ایسی لائبریریاں ہیں جہاں ہر ہفتے CONTRIBUTION کرنا پڑتا ہے۔کیونکہ وہاں PAY ملتی ہے ہر ہفتے بعد۔جماعت احمدیہ کراچی بک کلب بنالے میں نے اُن کو کہا تھا کہ کتابیں خریدنے کے لئے جماعت احمدیہ کراچی ایک کلب بنالے۔جس کے پاس حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی یہ پانچ تفسیریں، جلدیں نہیں ہیں۔آپ اُس سے کہیں کہ تم اس کلب کے ممبر بن جاؤ۔پانچ روپے یا تین روپے جو مناسب ہو یہاں کی آمد کے لحاظ سے، وہ چندہ رکھ دو۔اگر ایک گھر میں تین خادم ہیں تو تین ممبر نہ بنیں۔پہلے تو ہمیں ہر گھر میں کتاب پہنچانی ہے۔ایک ممبر بن جائے۔آپ اُس کو پانچ جلدیں منگا کر دے دیں اور پانچ جلدوں کی مثلاً مجھے قیمت نہیں یاد۔مثلا اگر پچاس روپے قیمت ہے اور پانچ روپے چندہ ہے تو دس مہینے میں وہ PAYMENT P کر دے گا۔اگر ساٹھ روپے قیمت ہے اور پانچ چندہ ہے تو بارہ مہینے میں کر دے گا۔پہلی PAYMENT پر اُس کو پانچ کا سیٹ مل جائے گا۔لے کے پڑھے۔EASY INSTALMENTS بڑی تھوڑی قسطوں پر اُس کو اس کی قیمت ادا کرنی پڑے گی۔دو باتیں تمہاری مدد کے لئے کر سکتا ہوں۔ایک یہ کہ ربوہ میں جو دینے والے ہیں ، اُن کو میں حکم دے دوں کہ جو تم کتابیں منگواؤ ، اُس کی قیمت تم سے بالاقساط وصول کریں۔اس واسطے تمہارے ذہن میں پہ کوئی بوجھ نہیں ہوگا۔ادھر سے وصول کرو۔اُن کو ادا کر دو۔یا