تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 81
81 تین نمائندے مردوں کے آئیں بلکہ عورتیں بھی اس موقع پر تعلیم القرآن کلاس کے لئے مرکز میں آئیں۔ان دونوں تجاویز کو جو لجنہ کی طرف سے آئی تھیں حضور نے بہت پسند فرمایا۔اسی نوٹ میں محترم با بوعبدالحمید صاحب مرحوم نے یہ بھی بتایا کہ:۔حضور نے تو عورتوں کو یہ بھی اجازت دے رکھی ہے کہ وہ ایسے معاملات کے متعلق بھی اپنی آراء بھیج سکتی ہیں جن کا ایجنڈے میں ذکر نہیں۔اس لئے ان حقوق سے جو اُن کو بلا مانگے ملے ہیں پورا پورا فائدہ اُٹھانا چاہیئے۔مجلس مشاورت میں عورتوں کیلئے تعلیم القرآن کلاس شروع کرنے کی تجویز: اس سال مجلس مشاورت کے موقع پر جنہ اماءاللہ مرکز ہو نے یہ تجویز پیش کی تھی کہ جس طرح ہر سال مردوں کے لئے تعلیم القرآن کلاس کا انتظام ہوتا ہے۔اس طرح آئندہ عورتوں کے لئے بھی اس کا انتظام کیا جائے۔حضرت امیر المومنین خلیفتہ اسیح الثانی نے اس تجویز پر اظہار خوشنودی کرتے ہوئے فرمایا کہ بہت اچھی بات ہے۔کیا قرآن مجید صرف مردوں کے لئے نازل ہوا ہے۔عورتوں کے لئے نہیں۔چنانچہ اس دفعہ رمضان المبارک میں رتن باغ میں عورتوں کے لئے بھی تعلیم القرآن کلاس کا انتظام کیا گیا جس میں بیرونی بجنات سے دس طالبات، قادیان کی مستورات جولاہور میں مقیم ہیں اُن میں سے چودہ اور لاہور سے دس طالبات شامل ہوئیں۔۱۲۔جولائی ۱۹۴۸ء بروز پیر صبح سات بجے کلاس کی پڑھائی شروع ہوئی۔کلاس کا روزانہ وقت تین گھنٹے مقرر ہوا۔روزانہ نصاب مندرجہ ذیل تھا:۔ا۔قرآن مجید کے ابتدائی تین پارے بمعہ ترجمہ و تفسیر ۲۔مجموعہ احادیث عمدۃ الاحکام ۳۔سیرت و تاریخ ۴۔سلسلہ کے مخصوص عقائد اور اختلافی مسائل پر نوٹ ۵ عربی بول چال ابتدائی گرامر ۶۔فقہ کے عام ضروری مسائل ے۔ابتدائی طبی امداد سے یہ کلاس جو لجنہ اماءاللہ مرکزیہ کے زیر اہتمام پہلی تعلیم القرآن کلاس تھی رمضان المبارک میں ل الفضل ۲ ستمبر ۱۹۴۸ء صفحه ۵ الفضل ۱۴۔جولائی ۱۹۴۸ء صفحہ ۷