تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 77
77 ایک تعلیم یافتہ ڈچ خاتون کا قبول اسلام: انہی دنوں ایک ڈچ خاتون مترجم قرآن ناصرہ زمرمان بیعت کر کے سلسلہ احمدیہ میں داخل ہوئیں۔ڈچ قرآن کے ترجمہ کا کام حضرت مولانا جلال الدین صاحب شمش کے ذریعہ دوسال کے عرصہ میں لنڈن میں تکمیل پایا۔پہلے ڈچ ترجمہ کا کام ایک اور شخص کے سپر د ہوا تھا جس نے نصف کے قریب ترجمہ کیا مگر کام تسلی بخش نہ ہونے کی وجہ سے اُس سے لے لیا گیا اور پھر از سر نو یہ کام شروع کیا گیا جسے مسز زمرمان نے نہایت محنت سے اوّل سے آخر تک انجام دیا۔مسٹر موصوفہ خود ڈچ ہیں اور ان کے خاوند انگریز ہیں۔دیر سے ان کی رہائش لندن میں رہی تھی مگر پھر حالات نے انہیں ہالینڈ آنے پر مجبور کر دیا۔ترجمہ کرنے کے دوران قرآن کریم کے مضامین پر غور کرنے کا انہیں زیادہ موقع نہ ملا تھا مگر طبیعت ان سے متاثر ضرور ہو گئی تھی، آخر دوبارہ غور کرنے کی تحریک پیدا ہوگئی۔سلسلہ کا لٹریچر بھی ساتھ ساتھ مطالعہ کرنے کا موقع ملا۔حتی که رفته رفتہ ان کی طبعیت اس طرف مائل ہوگئی۔مسز موصوفہ رمضان المبارک کے آخری عشرہ میں جمعہ کے روز داخلِ اسلام ہوئیں لے مسز ناصرہ زمرمان کے اسلام قبول کرنے کا واقعہ خود اُن کے اپنے الفاظ میں درج ذیل کیا جاتا ہے ویکھتی ہیں:۔۱۹۴۵ء کا سال میرے لئے تاریخی حیثیت رکھتا ہے۔اس سال کے شروع میں میں بمباری سے مسمار شدہ لنڈن میں پہنچی ہی تھی کہ مجھے ایک TRANSLATION BUREAU کی طرف سے ملاقات کے لئے پیغام ملا مجھے بتایا گیا کہ یہ ملاقات قرآن کریم کے ڈچ زبان میں ترجمہ کے سلسلہ میں ہے۔مجھے آخری تین صد صفحات کا ترجمہ کرنے کے لئے کہا گیا۔اس پر مجھے خواہش پیدا ہوئی کہ میں دیکھوں کہ پہلے حصہ کا ترجمہ کیسا ہوا ہے۔میں پہلے حصہ کے چند صفحات کو لے کر گھر واپس کوئی اور ان کا بنظر غائر مطالعہ کیا۔اس ترجمہ کا میری طبیعت پر بہت برا اثر ہوا۔مترجم نے پرانی ڈچ زبان میں جس کو آجکل سمجھنا بھی مشکل ہے ترجمہ کیا ہوا تھا۔اور پھر تر جمہ کا سٹائل STYLE بھی اتنا اچھا نہ تھا اس لئے میں نے ترجمہ کرنے سے انکار کر دیا۔میرے لئے اس کام کو کرنا اِس لئے بھی دوبھر تھا کہ میری پیدائش اور تربیت عیسائی ماحول میں ہوئی تھی جس میں گناہ کا تصور بالکل ہی اور ہے۔اس امر کو مانتے ل الفضل ۱۱۔اگست ۱۹۴۸ء صفحہ ۵ کالم نمبر ۱ -۲