تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 64
19 64 ۱۹۴۷ء کا آزمائشی دور ختم ہوا ۱۹۴۸ء شروع ہوا۔اُکھڑے ہوئے قدم جسے اور لجنہ اماءاللہ کی تاریخ کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا۔یہ سال اس لحاظ سے جماعت کے لئے خاص اہمیت رکھتا ہے کہ ۱۹۴۷ء میں قادیان سے ہجرت کے المناک حادثہ کے بعد منتشر اور بکھری ہوئی جماعت کو یکجا کرنے اور جماعت کا نیا مرکز قائم کرنے کی جو ہم مہم حضرت خلیفہ مسیح الثانی نے شروع فرمائی تھی وہ اس سال زیادہ سرگرمی کے ساتھ جاری رہی۔اس مہم میں احمدی خواتین نے بھی خاص اور اہم حصہ لیا۔جو کام بھی ان کے سپرد کئے گئے انہیں اپنی استطاعت کے مطابق سرانجام دینے کی کوشش کی گئی۔پاکستان میں نئے مرکز کے قیام کے لئے حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے زمین خریدی تو لجنہ اماءاللہ نے بھی اپنا وہاں مرکزی دفتر بنانے کے لئے زمین حاصل کرنے کا فیصلہ کیا تالجنہ اماءاللہ کے کام منتظم طور پر کئے جاسکیں۔چنانچہ ۲۴ کنال زمین ۲۱ ستمبر ۱۹۴۸ء کو حاصل کی گئی لے جس پر بہت جلد اللہ تعالیٰ کے فضل سے لجنہ اماءاللہ نے اپنا دفتر بنانے کی توفیق پائی۔سال رواں میں لجنہ اماءاللہ مرکزیہ کی عہد یداران: سال رواں میں لجنہ اماءاللہ مرکزیہ کی مندرجہ ذیل عہدیداران رہیں :۔حضرت سیّدہ ام ناصر صاحبہ صدر جنرل سیکرٹری حضرت سیدہ مریم صدیقہ صاحبہ مدظلہ العالی سیکرٹری مال محترمہ امۃ الرشید شوکت صاحبہ اہلیہ محترم ملک سیف الرحمن صاحب ! کے حضور نے دفاتر اور تعلیمی اداروں کے لئے زمین ہدیہ عنایت فرمائی:۔محترمہ استانی میمونہ صوفیہ صاحبہ ایک لمبے عرصہ تک لجنہ اماءاللہ مرکزیہ کی سیکرٹری مال رہی ہیں۔ہجرت کے بعد کچھ عرصہ کے لئے آپ کراچی چلی گئی تھیں اس وجہ سے عارضی طور پر یہ عہدہ ان کو دینا پڑا۔۱۹۴۹ء میں آپ کے واپس آنے پر پھر یہ عہدہ آپ کو ہی دیا گیا اور ۱۹۶۲ء تک آپ ہی سیکرٹری مال رہیں :۔