تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 559
559 ہمت کرے انساں تو کیا ہو نہیں سکتا اللہ تعالیٰ نے اپنے خاص فضل و کرم سے آپ کے دل میں پہلے اس اہم تاریخی کام کی تکمیل کا خاص احساس اور جذ بہ پیدا فرمایا۔پھر اپنی جناب سے ہمت بھی عطا فرمائی اور ساتھ ہی کچھ ایسی مددگار بھی عطا فرمائیں جن کے ذریعہ یہ ذخیرہ اخبارات و رسائل کے انبار سے نکالا تا کہ علیحدہ اکٹھا ہوسکتا۔اللہ تعالیٰ کا یہ فعل اس کا ثبوت ہے کہ یہ اس کا اپنا منشاء تھا جو اس نے اپنے فضل سے آپ کے ذریعہ پورا فرمایا۔دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو اس کی احسن جزاء عطا فرمائے اور صحت و سلامتی سے رکھے اور لجنہ کی تاریخ کا بقیہ حصہ بھی با احسن مکمل کرنے کا سامان پیدا فرما کر پھر اس کی تعمیل کی آپ کو تو فیق عطا فرمائے“ -۱۴ محترم نیم احمد صاحب باجوہ جامعہ احمدیہ:۔” خاکسار کو تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد اول پڑھنے کا موقع ملا۔احمدی بہنوں کے بے نظیر واقعات اور ان کی قربانیوں کی حسین داستان کا مطالعہ کرتے ہوئے کئی دفعہ طبیعت بھر آئی۔دل کی گہرائیوں سے آپ کے لئے دعا کرنے کا موقع ملا۔کیونکہ خدا کی دی ہوئی توفیق سے آپ نے یہ عظیم کام سرانجام دے کر ایک طرف تو موجودہ اور آئندہ نسل کے لئے اپنے اسلاف کے روشن اور درخشاں کارناموں کو اجا گر کیا ہے اور دوسری طرف ان پاک نفس فدائیت کے پیکروں کے لئے دردمندانہ دعاؤں کا سامان پیدا کیا ہے جنہوں نے احمدیت کے حسین اور بے نظیر تصور کو اپنے وجودوں سے ظاہر کیا ہے اور دنیا کو دکھایا کہ واقعی حضرت مسیح پاک علیہ السلام خدا کی طرف سے تھے کیونکہ اس قسم کی پاک تبدیلی آسمانی وجود ہی پیدا کیا کرتے ہیں۔مصباح ستمبر ۱۹۷۱ء صفحہ 11