تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 525
525 خریدی جائے تو کام جلد از جلد شروع کر دیا جائے۔فیصلہ:۔نمائندگان نے متفقہ طور پر اس تجویز کو منظور کر لیا اور وعدہ کیا کہ سکول کے لئے چندہ جمع کریں گی۔(چنانچہ جلد ہی چندہ جمع کر کے سات کنال زمین خرید لی گئی ) تجویز:۔لجنہ اماءاللہ کی ترقی کیلئے ہر ضلع کے لئے ایک انسپکٹرس ہونی چاہئے تا کہ وہ سارے سال میں کم از کم ایک دفعہ ضلع کا دورہ کر سکے۔صرف ایک انسپکٹرس سارے پاکستان کی لجنات کا دورہ نہیں کر سکتیں۔اس پر مختلف لجنات کی رائے سے مندرجہ ذیل فیصلے ہوئے:۔فیصلہ:۔ہر ضلع میں تمام مقامی لجنات کا ایک سالانہ جلسہ ہوا کرے جس میں اس ضلع کے تمام قصبوں اور گاؤں کی عہدہ داران شامل ہوں اور مل کر اپنے ضلع کے کام کو بہتر بنانے کی کوشش کریں۔اس طرح ضلع کی لجنہ کی عہدہ دار اپنے ضلع کی مقامی لجنات کا دورہ کر کے ان کے کاموں کی رپورٹ مرکز کو دیں۔اس طریق پر مرکز کو زیادہ انسپکٹرس رکھنے کی ضرورت نہیں رہے گی اور اصل مقصد حل ہو جائے گا۔(۲) مستقل انسپکٹرس تو ایک ہو لیکن تعطیلات میں مجلس عاملہ کی کارکنات یا دیگر ذمہ دار مستورات کو مختلف لجنات کے دوروں پر بھجوایا جائے۔اس طرح باقاعدہ تنخواہ کے خرچ کی بجائے لجنہ مرکز یہ کوصرف سفر خرچ ادا کرنا پڑے گا۔تجویز :۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی (رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) کے خطبہ جمعہ کی روشنی میں جس میں آپ نے پردہ کی اہمیت کی طرف توجہ دلائی ہے۔جماعت کی مستورات کی تربیت کی نگرانی اور بے پردگی کو دور کرنے کی سکیم بنائی جائے۔فیصلہ: کسی بے پردہ خاتون کو لجنہ اماءاللہ کا کوئی عہدہ نہ دیا جائے۔نیز اجلاسوں میں بار بار پردہ کی اہمیت کی طرف توجہ دلائی جائے۔ہر لجنہ اپنی رپورٹوں میں تربیت واصلاح کے ماتحت بے پردگی کے دور کرنے کے لئے جو اس نے کوشش کی ہے اس کا ذکر کرے۔اس سلسلہ میں لجنہ اماءاللہ مرکزیہ نے پہلا عملی قدم یہ اٹھایا کہ جلسہ سالانہ کے موقع پر بے پردہ خواتین کو سٹیج کا ٹکٹ نہیں دیا تا کہ ان کے دلوں میں ندامت پیدا ہو۔اے ے مصباح فروری ۱۹۵۹ء صفحه ۳۷-۳۸