تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 379
379 عہد یداران اور لجنہ کی پرانی کارکنات قریباً ایک صد کی تعداد میں شامل ہوئیں۔اس تقریب کا انتظام صاحبزادی ناصرہ بیگم صاحبہ اور مکرمہ طیبہ صدیقہ صاحبہ بیگم نواب مسعود احمد خان صاحب کی نگرانی میں ہوا۔اس موقعہ پر محتر مہ امۃ الرشید شوکت صاحبہ نے لجنہ اماءاللہ مرکز یہ اور لجنہ اماءاللہ ربوہ کی نمائندگی کرتے ہوئے مندرجہ ذیل ایڈریس پیش کیا:۔بسم الله الرحمن الرحيم نحمده ونصلى على رسوله الكريم وعلى عبده المسيح موعود ایڈریس بر موقع ورود مسعود از سفر یورپ سيّدنا المُصْلِحِ المَوْعُود أيده الله الودود اَطَالَ اللهُ عمره واطلع شمُوسَ طَالِعِه پیارے آقا ! السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ ایڈریس رسمی بھی ہوتے ہیں اور پر خلوص بھی۔اور خلوص قلب کو سب سے بہتر ہمارا پروردگار جانتا ہے۔اس لئے ہم سب سے پہلے اس ذات اقدس کا شکریہ ادا کرتی ہیں جس نے ہم کو حضور جیسا کامل رہنما عطا فرمایا۔جس کی مسیحانہ رہنمائی نے ہمیں سرچشمۂ زندگی کا راستہ دکھایا جس کے آنے سے ہمارے اجڑے دیار آباد ہو گئے اور ہم نے خوشیوں کے ترانے گائے اور بے اختیار دلوں نے اسے مخاطب کرتے ہوئے یوں خوش آمدید کہا اے آمدنت باعث آبادی ما سیدنا ! جب ہم نے یہ خبر سنی کہ آپ سفر یورپ سے کامیاب و کامران تشریف لا رہے ہیں تو ہم نے یوں محسوس کیا جیسے اللہ تعالیٰ ہمیں مخاطب کرتے ہوئے فرما رہا ہے کہ نور آتا ہے نور اور جب آپ نے ربوہ میں نزول اجلال فرمایا تو ہماری آنکھوں نے اللہ تعالیٰ کے اس خطاب کو ایک واقعہ کی شکل میں دیکھا۔وہ مسحور تھیں کہ ربوہ کا چپہ چپہ بقعہ نور بنا ہوا ہے۔ہمارے دل اس باطنی کیفیت سے سرشار ہو کر اللہ تعالیٰ کے حضور جھوم جھوم کر گا رہے تھے کہ