تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 378
378 سفر یورپ سے حضور کی مراجعت :۔حضرت خلیفہ مسیح الثانی رضی اللہ عنہ مہ اہلبیت ۱۲۵ تمبر بروز دوشنبه بخیریت واپس مرکز سلسله ربوہ میں تشریف لائے۔جماعت کے ہر حصہ اور ہر طبقہ نے حضور کے خیر مقدم میں بہت پر جوش اور پر خلوص طریق سے حصہ لیا اور یوں اپنی خوشی اور مسرت اور اللہ تعالیٰ کے حضور تشکر کے جذبات کا اظہار کیا۔لجنہ اماء اللہ مرکزیہ نے بھی دیگر مرکزی اداروں کے ساتھ مل کر حضور کے خیر مقدم میں حصہ لیا اس غرض سے دفتر لجنہ اماءاللہ کی چاردیواری کی جو عرصہ سے خستہ حالت میں تھی مرمت کرائی گئی۔جھنڈیوں اور قطعات کا انتظام کیا گیا۔جس دن حضور تشریف لائے اس رات وسیع پیمانے پر چراغاں کا اہتمام کیا گیا۔ناصرات الاحمدیہ نے تحریک جدید کی چاردیواری کے اندر سڑک کی جانب کھڑے ہوکر اپنے خوبصورت جھنڈوں اور نظموں سے اپنے جذبات کا اظہا کیا۔حضور اقدس ۲۵ ستمبر کی شب کو جبکہ اگلے روز یعنی دوشنبہ کی رات شروع ہو چکی تھی چناب ایکسپریس کے ذریعہ چھ ماہ کی طویل جدائی کے بعد ربوہ واپس تشریف لائے۔حضور ۵/ستمبر کو کراچی میں ورود فرما ہوئے تھے۔۲۵ ستمبر کی رات کو ربوہ کے دیگر دفاتر ، دوکانوں اور مکانات اور مدارس کی طرح لجنہ اماء اللہ کے دفاتر ، ہال اور ملحقہ ادارے جامعہ نصرت کی عمارات بھی رنگ برنگ قمقموں اور خوش آمدید کے روشن حروف سے جگمگ جگمگ کر رہی تھیں۔مورخه ۱۶ را کتوبر بروز اتوار لجنہ مرکزیہ اور لجنہ ربوہ نے مشترکہ طور پر دفتر لجنہ اماء الله مرکز یہ میں خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ان خواتین مبارکہ کے اعزاز میں ایک استقبالیہ عصرانہ دیا جو اس سفر میں حضور کے ہمراہ تھیں۔اس سفر میں حضور کے ہمراہ حضور کے چاروں حرم حضرت سیدہ ام ناصر صاحبه حضرت ام وسیم ، حضرت سیدہ مریم صدیقہ صاحبہ اور حضرت سیدہ مہر آپا صاحبہ تھیں۔نیز بیگم مرز امبارک احمد صاحب اور صاحبزادی امتہ الباسط صاحبہ بھی تھیں۔سید داؤ د احمد صاحب اور ان کی اہلیہ صاحبزادی امتہ الباسط صاحبہ کا قیام قریباً ڈیڑھ سال لندن میں رہا۔تقریب عصرانہ میں لجنہ اماء اللہ مرکزیہ کی تمام ممبرات ،حلقہ جات کی عہدیداران ضلعی