تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم

by Other Authors

Page 26 of 567

تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 26

26 20 قربانیوں کی یاد دلاتا ہے سیالکوٹ کے ایک احمدی نوجوان غلام محمد صاحب ابن مستری غلام قا در صاحب کو ان کی والدہ نے یہ نصیحت کی تھی کہ بیٹا اگر اسلام اور احمدیت کی حفاظت کے لئے تمہیں لڑنا پڑے تو کبھی پیٹھ نہ دکھانا۔اس سعادت مند اور خوش قسمت نوجوان نے اپنی بزرگ والدہ محترمہ حسین بی بی صاحبہ کی اس نصیحت پر اس طرح عمل کیا کہ قادیان میں احمدی عورتوں کی حفاظت کرتے ہوئے اپنی جان دیدی مگر دشمن کے مقابلہ میں پیٹھ نہ دکھائی۔مرنے سے پہلے اس نوجوان نے اپنے ایک دوست کو اپنے پاس بلایا اور اپنے آخری پیغام کے طور پر اس نے یہ لکھوایا کہ:۔مجھے اسلام اور احمدیت پر پکا یقین ہے۔میں اپنے ایمان پر قائم جان دیتا ہوں۔میں اپنے گھر سے اسی لئے نکلا تھا کہ میں اسلام کے لئے جان دوں گا۔آپ لوگ گواہ رہیں کہ میں نے اپنا وعدہ پورا کر دیا اور جس مقصد کے لئے جان دینے آیا تھا میں نے اس مقصد کے لئے جان دے دی۔جب میں گھر سے چلا تھا تو میری ماں نے نصیحت کی تھی کہ بیٹا ! دیکھنا پیٹھ مت دکھانا۔میری ماں سے کہہ دینا کہ تمہارے بیٹے نے تمہاری وصیت پوری کر دی اور پیٹھ نہیں دکھائی اور لڑتے ہوئے مارا گیا۔اس نو جو ان کے ساتھ اس کے ایک اور ساتھی عبد الحق صاحب نے بھی جام شہادت نوش کیا۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے ان دونوں خوش قسمت نو جوانوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:۔یہ دونوں بہادر۔۔۔اس وقت منوں مٹی کے نیچے دفن ہیں لیکن انہوں نے اپنی قوم کی عزت کو چار چاند لگا دیئے ہیں۔مرنے والے مر گئے۔انہوں نے بہر حال مرنا ہی تھا۔اگر اور کسی صورت میں مرتے تو ان کے نام کو یا درکھنے والا کوئی نہ ہوتا اور وہ اپنے دین کی حفاظت اور اسلام کا جھنڈا اونچار کھنے کے لئے مرے ہیں اس لئے حقیقت وہ زندہ ہیں۔اور آپ ہی زندہ نہیں بلکہ اپنے بہادرانہ کارناموں کی وجہ سے آئندہ اپنی قوم کو زندہ رکھتے چلے جائیں گے۔ہر نوجوان کہے گا کہ جو قربانی ان نوجوانوں نے کی وہ ہمارے لئے کیوں ناممکن ہے۔جو نمونہ انہوں نے دکھایا وہ ہم کیوں نہیں دکھا سکتے۔خدا کی رحمتیں ان لوگوں پر نازل ہوں اور ان کا نیک نمونہ مسلمانوں کے خون کو گرما تارہے اور اسلام کا جھنڈ اہندوستان میں سرنگوں نہ ہو۔اسلام زندہ باد۔محمد صلے اللہ علیہ وسلم زندہ باد “ الفضل ۱۱۔اکتوبر ۱۹۴۷ء صفحہ ۲ کالم نمبر ۳ الفضل ۱۱۔اکتوبر ۱۹۴۷ء صفحہ ۲ کالم نمبر ۳-۴