تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم

by Other Authors

Page 270 of 567

تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 270

270 صاحبہ مرحومہ شامل تھیں محترمہ استانی میمونہ صوفیہ صاحبہ کی امارت میں سرگودھا روانہ ہوا۔یہ وفد محترم مرزا عبد الحق صاحب امیر مقامی کی قیام گاہ پر پہنچا جہاں پر ساڑھے چار بجے غیر احمدی مستورات کو چائے پر بلایا گیا تھا۔اسی روز سرگودھا کی لجنہ کا اجلاس مسجد احمد یہ میں ہوا جس میں محترمه استانی میمونہ صوفیہ صاحبہ اور محتر مہ اہلیہ صاحبہ عبد الشکور صاحب کنزے شریک ہوئیں۔محترمہ استانی میمونہ صوفیہ صاحبہ نے مستورات سے خطاب فرمایا۔دعوت میں کل ۲۳ خواتین آئیں جن میں ۱۵ غیر از جماعت تھیں۔ان سے گفتگو کے دوران ان کو احمدی اور غیر احمدی کا فرق وضاحت سے بتایا گیا اور ان کے تمام سوالات اور اعتراضات کا کماحقہ جواب دیا گیا جس سے وہ بہت متاثر ہوئیں اور انہوں نے اعتراف کیا کہ مسلمانوں کو اتحاد کی ضرورت ہے اور جماعت احمد یہ اس ضرورت کو پورا کر رہی ہے۔سب بہنوں نے ربوہ آنے کا وعدہ کیا۔(۳) تبلیغی وفد مگھیانہ: لجنہ اماءاللہ مرکزیہ کا چوتھا تبلیغی وفد ۱۹ مئی ۱۹۵۱ء کو صبح آٹھ بجے ربوہ سے محترمہ استانی میمونہ صوفیہ صاحبہ کی زیر قیادت مگھیا نہ روانہ ہوا۔شریک وفد مندرجہ ذیل خواتین تھیں:۔ا۔حضرت سیدہ ام داؤ د صاحب ۳ محترمہ نصیرہ نزہت صاحبه ۵ محترمه سراج بی بی صاحبہ ۲- محترمه استانی میمونه صوفیه صاحبه ۴ محترمہ حمیده صابرہ صاحبہ مگھیانہ کی لجنہ اماءاللہ کی طرف سے محترمہ بیگم صاحبہ محترم میاں بشیر احمد صاحب کے ہاں بہت سی خواتین کو عصرانہ پر مدعو کیا گیا تھا۔محترمہ صدر صاحبہ وسیکرٹری صاحبہ کے علاوہ کچھ احمدی خواتین بھی موجود تھیں۔محترمہ صدر صاحبہ نے معزز مہمانوں سے تعارف کروایا۔اس کے بعد ایک گھنٹہ تک تبادلہ خیالات ہوتا رہا۔ان کو بتایا گیا کہ اس وفد کے آنے اور آپ سے ملنے کا یہ مقصد ہے کہ آپ سے دوستانہ تعلق قائم کر کے ان غلط فہمیوں کو دور کیا جائے جو عام طور پر جماعت احمدیہ کے متعلق پیدا کردی گئیں ہیں۔لے مصباح اپریل ۱۹۵۱ء صفحہ ۳۶