تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 113
113 بھی خرید کر اپنے ساتھ ربوہ لے گئیں جس کی وجہ سے عورتوں کی مہمان نوازی میں ایک حد تک سہولت پیدا ہوگئی۔درجنوں عورتیں لاہور سے مہمانوں کی خدمت کے لئے ربوہ گئیں۔قادیان میں وہ مہمان بن کر جایا کرتی تھیں لیکن اس جلسہ پر وہ میزبان بن کر گئیں اور ان میں سے بعض نے نہایت اخلاص کے ساتھ مہمانوں کی خدمت میں حصہ لیا اور نیک نمونہ دکھایا۔یہ بات بتاتی ہے کہ لاہور کی جماعت کی عورتوں میں ایک حد تک بیداری پیدا ہو چکی ہے اور اگر یہ حالت قائم رہے تو اس کا اثر یقیناً آئندہ نسلوں پر بھی پڑے گا۔چونکہ اب کے خواتین کو بھی آنے کی اجازت تھی اس لئے خواتین بھی بڑی کثرت کے ساتھ تشریف لائیں حتی کہ ان کی رہائش کے انتظامات ناکافی ثابت ہوئے اور مردوں کے لئے جو ئیر کیں بنائی گئی تھیں ان کا ایک حصہ بھی خواتین کے لئے مخصوص کرنا پڑا۔جلسہ کے انتظامات: ۲۵۔مارچ سے حضرت سیدہ اُمم داؤد صاحبہ نے جلسہ کے انتظامات کرنے شروع کر دیئے تھے۔حسب سابق ناظمہ حضرت سیدہ ام داؤد صاحبہ مقرر ہوئیں۔آپ کی معاونات محترمہ سیدہ بشری بیگم صاحبہ محترمہ امتہ اللہ مغل صاحبہ صدر لجنہ اماءاللہ لا ہور اور محترمہ زینب بیگم صاحبہ سیکرٹری لجنہ اماءاللہ لاہور تھیں۔ربوہ کے اس پہلے جلسہ سالانہ مستورات کے انتظامات کا ایک مختصر ڈھانچہ درج ذیل کیا جاتا ہے:۔منتظمہ اجرائے پرچی محترمہ صاحبزادی امتہ الباسط بیگم صاحبه ↓ نگران معاونات محترمہ عابدہ خاتون صاحبه انچارج دفتر عاجزه امتہ اللطیف انسپکریس استقبال محترمہ سیده مهر آیا صاحبہ محترمہ استانی امت الرحمن عمر صاحبہ محترمه استانی محمدی بیگم صاحبہ محترمہ سلیمہ بیگم صاحبہ ایم۔اے محترمہ اقبال بیگم صاحبہ اہلیہ محترم شیر محمد صاحب ، محترمه مسعوده بیگم صاحبه اہلیہ محترم با بوعبد العزیز صاحب حفاظت و انکوائری محترمه استانی باجرہ صاحبہ اہلیہ محترم صوفی غلام محمد صاحب۔الفضل ۲۱ اگست ۱۹۴۹ء صفحه ۳ کالم نمبر ۱-۲۲ الفضل ۲۳۔اپریل ۱۹۴۹ء صفحہ ۲ کالم نمبر ۲