تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم

by Other Authors

Page 80 of 567

تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 80

80 60 بھی تجویز فرمایا چنانچہ ۲۶۔۲۷۔مارچ کو مجلس شوری کے اجلاس منعقد ہوئے اور ۲۸۔مارچ کو ایک دن جلسہ منعقد ہوا۔کوٹھی رتن باغ کے لان میں مستورات کے لئے بھی باپردہ جلسہ گاہ بنائی گئی اور مردانہ جلسہ گاہ سے بذریعہ لاؤڈ سپیکر تقاریر سنی جاتی رہیں۔غیر احمدی معز زخواتین کے لئے یکصد کرسیوں کا علیحدہ انتظام کیا گیا تھا۔مستورات کثرت کے ساتھ اس میں شامل ہوئیں۔لجنات کی آرا پر اظہار خوشنودی حضرت خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے ی فیصلہ فرمایا تھا کہ مشاورت کے ایجنڈے کے متعلق لجنات اماءاللہ بھی اپنی آرا لکھ کر بھیجا کریں جن کے سُنانے کے لئے ہر سال ایک نمائندہ شوری کے لئے لجنہ کی طرف سے نامزد کیا جائے چنانچہ اس کے مطابق ہر سال بلجنات کی آرا بھی شوریٰ میں پیش ہوتی رہیں اگست ۱۹۴۸ء میں محترم با بوعبدلحمید صاحب ریلوے آڈیٹر نے جنہیں حضور نے لجنات سے آراء حاصل کرنے پر مقرر فرمایا تھا اپنے ایک نوٹ میں فرمایا کہ:۔گذشته مجلس مشاورت منعقده ۲۶-۲۷ مارچ ۱۹۴۸ مقام رتن باغ لاہور میں لجنہ کی بعض آرا پر حضور نے بہت خوشنودی کا اظہار فرمایا۔مثلاً تعلیم وتربیت کی طرف سے ایک تجویز یہ تھی کہ ہر جماعت جس کا اوسط چندہ ماہوار کم سے کم پانچ سو روپیہ ہے لازمی طور پر مدرسہ احمدیہ کے لئے ایک طالب علم پڑھنے کے لئے بھیجے یا ایک طالبعلم کا ماہوار چندہ جو اوسط ۲۰ روپے ماہوار ہے ادا کرے۔لجنہ اماءاللہ مرکزیہ نے یہ ترمیم پیش کی کہ ہر جماعت جس کا چندہ ساڑھے تین سور و پیہ ماہوار ہو وہ ایک طالب علم بھجوائے یا بیس روپے ماہوار چندہ ادا کرے۔اور ہر ساڑے تین سو روپیہ ماہوار چندہ پر ایک طالبعلم تعلیم کے لئے بھجوایا جائے۔یعنی کسی جماعت کا چندہ سات سو روپیہ ماہوار ہوتو وہ دوطالبعلم بھجوائے یا چالیس روپیہ ماہوار خرچ ادا کرے۔اسی طرح ایک تجویز یہ تھی کہ ہر جماعت جس کے بالغ افراد کی تعداد ایک سو یا اس سے زیادہ ہے تعلیم القرآن کلاس کے لئے کم از کم تین نمائندے بھجوائے۔اس سے ناظر صاحب کی مُراد صرف مردنمائندوں سے تھی۔لجنہ اماءاللہ مرکزیہ نے یہ ترمیم پیش کی کہ نہ صرف ل الفضل ۳۰۔مارچ ۱۹۴۸ء صفحہ ۵ کالم نمبر ۳