تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم

by Other Authors

Page 48 of 567

تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 48

48 ۲ حلقه سید پوری گیٹ ے۔سیکرٹری محترمه سعادت بیگم صاحبه صدر محترمہ صفیہ رمضان صاحبه سیکرٹری محترمہ رشیدہ فاروق صاحبه صدر محترمہ حلیمہ سیٹھی صاحبہ۔حلقہ کالج روڈ صدر محتر مہ صالحہ مختار احمد صاحبه سیکرٹری محترمہ والدہ داؤ د صاحبہ ۹۔حلقہ پاورلائنز صدر محترمہ اہلیہ صاحبہ عبد الخالق صاحب ۱۰۔حلقہ رنہ روڈ سیکرٹری محترمہ طاہرہ بیگم صاحبہ صدر و سیکرٹری محترمہ فاطمہ بیگم صاحبہ مذکورہ بالا بہنیں ۱۹۵۴ء سے لے کر ۱۹۶۲ء تک بڑے اخلاص اور محبت سے کام کرتی رہیں۔لجنہ کے کاموں میں ربوہ اور کراچی کے بعد راولپنڈی کا نمبر تھا اور ناصرات کا پہلا درجہ تھا۔سیکرٹری ناصرات محترمہ رقیه سنوری صاحبہ بڑی محنت ، تندہی اور محبت سے کام کرتی رہیں۔۵۸ - ۱۹۵۷ء دو سال مولوی محمد صدیق صاحب شاہد اور ان کی اہلیہ محترمہ انور بیگم صاحبہ نے ناصرات کی ترقی کے لئے بے حد محنت اور دلچسپی سے کام کیا۔ان کے بعد محترمہ رقیہ سنوری صاحبہ بھی بڑی ہمت اور شوق سے کام کرتی رہیں۔مرکزی تحریکات تعلیم القرآن کلاس، امتحانات ،نمائش ، ناصرات اور اجتماعات میں لجنہ راولپنڈی کا نمایاں حصہ ہوتا تھا۔ناصرات الاحمد یہ راولپنڈی نے ربوہ اور لاہور کے بعد سب سے پہلے اجتماع منعقد کیا جو بہت کامیاب رہا۔۱۹۵۶ء میں محترمہ بیگم صاحبہ محترم میاں عطاء اللہ صاحب ایڈووکیٹ مرحوم ضلع راولپنڈی کی صدر مقرر ہوئیں۔آپ نے واہ فیکٹری ، کوہ مری اور چنگا بنگیال میں لجنہ قائم کی۔مسجد نور راولپنڈی کے لئے چندہ میں مستورات نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور اپنے زیور بھی دیئے۔مسجد تیار ہونے پر لجنہ اماءاللہ راولپنڈی نے اس میں 4 پنکھے لگوائے جن میں دو پنکھے محترمہ سیدہ زبیدہ مقبول صاحبہ اور محترمہ بیگم صاحبہ ظہور الحق صاحب نے دیئے۔محترمہ بیگم صاحبہ میاں عطاء اللہ صاحب مرحوم نے لجنہ اماءاللہ کا کام ۱۹۴۹ء سے لے کر ۱۹۶۲ء تک کیا۔۱۹۵۴ء سے ۱۹۶۲ء تک بہ حیثیت صدر خدمت کی ( اس کے بعد آپ بیرون پاکستان تشریف