تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم

by Other Authors

Page 40 of 567

تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 40

40 40 ۱۲۔حلقہ اسلامیہ پارک صدر محترمه سردار بیگم صاحبہ اہلیہ چوہدری عبدالرحیم صاح سیکرٹری محترمہ عائشہ سعیدہ صاحبہ اہلیہ مرز امحمد صفدر صاحب ۱۳ حلقه سول لائنز صدر محتر مہ زینب بیگم صاحبہ اہلیہ ڈاکٹر غلام حیدر صاحب سیکرٹری محترمہ سعیدہ صاحبہ اہلیہ شیخ محمد سعید صاحب ۱۴۔حلقه مغلپورہ گنج صدر محترمہ اہلیہ صاحبہ شیخ عبدالکریم صاحب ۱۵۔حلقه راوی پارک صدر محترمہ حفیظہ حمیدہ صاحبہ ومحتر مہ اہلیہ صاحبہ مرزا رحمت اللہ صاحب ۱۶۔حلقہ ماڈل ٹاؤن محتر مہ صاحبزادی ناصرہ بیگم صاحبہ کوتقسیم ملک کے بعد ماڈل ٹاؤن (لاہور) میں رہائش اختیار کرنی پڑی۔آپ نے وہاں لجنہ کے اجلاسوں کے علاوہ جو کام خاص طور پر شروع کیا وہ رمضان المبارک میں قرآن مجید کا درس تھا۔آپ کے بعد محترمہ حیات بیگم صاحبہ اہلیہ مولوی محمد ابرہیم صاحب بقا پوری محترمہ عزیزہ رضیہ صا حبہ مرحومہ اور پھر محترمہ عابدہ صاحبہ مرحومہ درس دیتی رہیں۔ان کے علاوہ محترمہ نور جہاں صاحبہ اہلیہ بشارت احمد صاحب بشیر مرحوم (ابن حضرت مولوی عبدالرحمن صاحب جٹ امیر جماعت احمدیہ قادیان) محترمہ زبیدہ بیگم صاحبہ اہلیہ میاں محمد یوسف صاحب محترمہ خدیجہ زینب صاحبہ محترمہ اہلیہ صاحبہ ڈاکٹر فیض علی صاحب محترمہ آمنہ بیگم صاحبہ اہلیہ چوہدری محمد عبد اللہ صاحب نے بھی لجنہ کے کاموں میں حصہ لیا۔لجنہ اماءاللہ لا ہور نے ہجرت کے بعد سے نمایاں ترقی کی اور اب اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایک منظم اور فعال لجنہ ہے جو اپنے نصب العین کے حصول کے لئے کوشاں ہے۔ناصرات کی تنظیم کو بہتر بنانے اور بچیوں کی تربیت میں محترمہ شاکرہ بیگم صاحبہ سیکرٹری ناصرات نے اہم کردارادا کیا ہے اور خدمت خلق کے سلسلہ میں محترمہ اقبال بیگم صاحبہ نے۔اسی طرح محترمہ شاہدہ ریاض صاحب اور محترمہ ممتاز فقر اللہ صاحبہ ہر دو نے چندوں کی وصولی اور تنظیم نیز دورے کرنے میں نمایاں خدمات سرانجام دی ہیں۔محترمہ شاہدہ ریاض صاحبہ بیرون پاکستان جا چکی ہیں اور محترمہ ممتاز فقر اللہ صاحبہ حالات کی مجبوری سے کام چھوڑ چکی ہیں لیکن لجنہ اماءاللہ ان کی خدمات کو بھلا نہیں سکتی۔لجنہ اماءاللہ کراچی: کراچی میں لجنہ اماءاللہ کی شارخ تقسیم ملک سے قبل ۱۹۳۸ء میں قائم ہوئی تھی یا محترمہ امتہ اللہ ا تاریخ لجنہ جلد اوّل صفحه ۳ ۴