تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 450
450 دار التبلیغ میں عورتیں سارا دن وقار عمل کر کے صفائی کرتی رہیں۔ان میں دو عورتیں یہاں کے امیر اور معزز احمدی کی بیوی اور بیٹی تھیں۔ان بہنوں کا یہ جوش خدمت قابل تقلید ہے۔۱۲ تاریخ کی صبح تک باہر سے مہمان آتے رہے اور اپنی زبان میں نعرے لگاتے رہے اور نظمیں پڑھتے رہے۔احمدی عورتوں اور مردوں نے کلمہ طیبہ، درود شریف، نماز باترجمہ اور بعض دعاؤں کے نیز اسلام زندہ باد اور حضرت خلیفتہ اسیح الثانی زنده باد پر مشتمل اپنی زبان میں گیت اور نعرے بنائے ہوئے ہیں۔عورتیں اپنا سارا کام اپنے ہاتھ سے کرتی رہیں۔جماعتوں کے سکرٹری یا منتظم اپنی جماعت کے مردوں اور عورتوں کو جلوس کی شکل میں جلسہ گاہ کی طرف لے جاتے رہے۔جلسہ گاہ دارالتبلیغ سے کچھ دور احمد یہ سینئر سکول کے پاس سمندر کے قریب ناریل کے درختوں کے نیچے بنائی گئی تھی۔باوجود اس کے کہ اس ملک کی عورتیں پردہ کے نام سے بھی ناواقف ہیں۔ہماری احمدی بہنوں نے سروں کے اوپر موٹے کپڑے دوپٹہ کی صورت میں اوڑھے ہوئے تھے۔اسی وجہ سے ۱۹۵۴ء میں مسجد احمدیہ کے افتتاح کے موقعہ پر گولڈ کوسٹ کے وزیر اعظم نے دیکھ کر تعجب اور پسندیدگی کا اظہار کیا تھا۔اس دن بارہ بجے کے قریب یہ جلسہ دعا کے بعد اللہ اکبر، اسلام زندہ باد، حضرت امیر المومنین زندہ باد کے نعروں کے درمیان ختم ہوا۔رپورٹ لجنہ اماءاللہ نا یجیر یا ۱۹۵۶ ء :- محترمہ سکینہ سیفی صاحبہ نے تحریر فرمایا:۔ہر جمعہ کو ہمارے اجلاس ہوتے تھے۔ان اجلاسوں میں مختلف اسلامی مسائل ، قرآن کریم اوراحادیث سکھانے کا انتظام کیا گیا۔۔ہفتہ کی شام کو ہمارے مبلغ لیکچر دیتے تھے جس میں بہنیں بھی شامل ہوتی رہیں۔تعلیم بالغان کے لئے ہماری مسجد میں ایک کلاس حکومت کی طرف سے جاری ہے۔اس سال پہلی مرتبہ اس کلاس کا امتحان ہوا۔جس میں دواحمدی بہنوں کو انعام بھی ملا۔جلسه مصلح موعود میں ہماری بہنوں نے خوب دلچسپی سے حصہ لیا اور سب نے سبز کپڑے پہنے۔مکرمہ امتہ الحمید صاحبہ اہلیہ شیخ نصیر الدین احمد صاحب نے یہاں آنے کے کچھ عرصہ بعد نمائش