تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 445
445 یوم جمہوریہ:۔۲۳ مارچ ۱۹۵۶ء کو پاکستان ایک آزاد اسلامی جمہور یہ قرار پایا۔اس موقع پر ملک بھر میں خوشیاں منائی گئیں۔چراغاں ہوا۔اور جلسے منعقد کئے گئے۔اس موقع پر لجنہ اماء اللہ مرکزیہ کے زیر اہتمام ایک جلسہ منعقد ہوا۔جس میں صدارت کے فرائض محترمہ سیدہ نصیرہ بیگم صاحبہ بیگم حضرت مرز ا عزیز احمد صاحب نے سرانجام دیئے۔اس جلسہ میں عاجزہ امتة اللطیف محترمہ امۃ اللہ خورشید صاحبہ محترمہ صفیہ بیگم صاحبہ اور مبارکہ قمر صاحبہ نے تقریریں کیں اے اس کے علاوہ بھی بعض لجنات نے جلسے کئے جن میں کنری سے اور کھاریاں سے کی رپورٹیں شائع ہوئیں۔ناصرات الاحمدیہ کی کھیلیں بھی ہوئیں جن میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے والی بچیوں کو انعامات دیئے گئے۔مٹھائی تقسیم کی گئی۔رات کو دفتر لجنہ اماءاللہ مرکز یہ پر چراغاں کیا گیا۔ہے لجنہ اماءاللہ ایبٹ آباد: لجنہ اماء اللہ ابیٹ آباد کے عہدہ داران کا انتخاب ہوا۔شروع میں اجلاسوں میں آنے والی مستورات کی تعداد صرف چھ سات تھی۔لیکن پھر حاضری چھپیں تھیں کے قریب ہو جاتی رہی۔بیگم عبداللہ جان صاحبہ نے خاص دلچسپی لی اور مدد کی۔اجلاس بھی انہی کی کوٹھی پر ہوتے رہے۔مندرجہ ذیل عہدہ داران کا انتخاب ہوا:۔محترمہ بیگم صاحبہ ڈاکٹر غلام اللہ صاحب صدر محترمہ ممتاز عصمت بیگم عبدالخالق صاحب جنرل سیکرٹری محترمه رشیدہ بیگم صاحبه نائب سیکرٹری لے رجسٹر رپورٹ کا رروائی لجنہ مرکز یہ ۲ الفضل ۲۱۔مارچ ۱۹۵۶ء صفحہ ۷ الفضل ۶۔اپریل ۱۹۵۶ء صفحہ ۶ مصباح اپریل ۱۹۵۶ء