تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 348
348 ہوتے رہے جن میں مختلف تربیتی اور اصلاحی مضامین سنائے جاتے رہے۔ایک ہفتہ وار د مینیات کلاس کھولی گئی جو بعد نماز جمعہ اڑھائی گھنٹے تک جاری رہتی۔اس کلاس کا نتیجہ بہت خوشکن رہا۔سکرٹری تبلیغ محترمہ عائشہ صاحبہ ہر اتوار کو تبلیغی وفد بنا کر باہر جاتی رہیں۔یہ وفد زبانی اور تقسیم لٹریچر کے ذیعہ تبلیغ کرتا رہا۔چندہ ممبری با قاعدگی سے وصول کر کے مرکز بھجوایا جا تا رہا۔حضرت اقدس کے صدقہ کے لئے اور دفتر مرکزیہ کی کرسیوں کے لئے بھی رقوم بھجوائی گئیں۔خدمت خلق کے لئے بھی کئی کام کئے گئے۔حضرت ام المومنین رضی اللہ عنہا کی وفات پر تعزیتی قرار داد پاس کر کے بھجوائی گئی۔ایک چیف کو کھانے کی دعوت دی گئی اور ایک مبلغ کی روانگی پر الوداعی پارٹی کا تمام انتظام کیا گیا۔بورا ( مشرقی افریقہ) محترمه سکینه شر ما صاحبہ صدر لجنہ اماء اللہ بٹورا نے اپنی رپورٹ میں تحریر فرمایا کہ بٹورا میں لجنہ اماء اللہ کی از سر نو تنظیم کی۔پندرہ روزہ تربیتی اجلاس کروائے جاتے رہے اور چندوں میں شامل ہونے کی تحریک کی جاتی رہی۔اجلاسوں میں غیر احمدی خواتین کو بھی بلایا جاتا رہا۔تقاریر کی مشق بھی کروائی جاتی رہی۔روزانہ عصر کے بعد بچوں کی دینی کلاس لگائی جاتی رہی۔ہفتہ میں ایک روز قران مجید اور احادیث کا درس دیا جاتارہا۔یوم التبلیغ کے موقعہ پر لجنہ کا ایک وفد پاکستانی مسلمانوں کے گھروں میں گیا اور رسالہ احمدیت کا پیغام کافی تعداد میں تقسیم کیا گیا۔ہے نیروبی :۔نیروبی ( مشرقی افریقہ ) میں پندرہ روزہ اجلاس با قاعدہ ہوتے رہے۔۲۲ نومبر کوسیرت النبی کا ایک جلسہ زیر صدارت بیگم نواب صدیق علی خان صاحب ہائی کمشنر آف پاکستان منعقد ہوا جس میں غیر احمدی اور غیر مسلم خواتین بھی شامل ہوئیں۔باوجود مخالفت کے یہ جلسہ بہت کامیاب رہا۔عیدالاضحیہ کے موقع پر کھیلوں کے علاوہ ایک دستکاری کی نمائش بھی لگائی گئی جس کا افتتاح بیگم صاحبہ نواب صدیق علی خان صاحب ہائی کمشنر آف پاکستان نے کیا۔اس میں دیگر غیر از جماعت خواتین کے ا مصباح اگست ۱۹۵۳ء صفحه ۳۶ تا ۳۸ ۲ مصباح نومبر ۱۹۵۳ء صفحه ۴۰