تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم

by Other Authors

Page 262 of 567

تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 262

262 جو خواہش بھی پیدا ہو گی وہ پوری ہو جائے گی اور اس خواہش سے مراد نیک خواہش ہے کیونکہ وہاں بری خواہش پیدا ہو ہی نہیں سکتی کہ کسی کی جا کر چوری کرو۔کیونکہ جس چیز کی چوری کی جاتی ہے وہ تو ایسی ہوتی ہے جسے کوئی شخص کسی دوسرے ذریعہ سے حاصل نہ کر سکتا ہو۔کوئی شخص جس کے گھر میں بہترین بیری کا درخت ہے وہ دوسرے گھر سے بیر چرانے نہیں جایا کرتا یہ چیز تو اسے پہلے ہی ملی ہوئی ہوتی ہے۔غرض بد خواہش وہاں پیدا ہی نہیں ہو سکتی۔ہر گندی خواہش کسی مجبوری کے نتیجہ میں پیدا ہوتی ہے اور وہاں نیکیوں کے حصول کے لئے ،خوشیوں کو پانے کے لئے اور مسرتوں سے حصہ لینے کے راستہ میں کوئی مجبوری نہیں لَهُمُ مَا يَشَاءُ وُنَ۔پس اے میری عزیز بچیو جو آج میری مخاطب ہو تمہیں اور ہر اس احمدی کو بھی جس کے کان تک میری یہ آواز پہنچے میں اس طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ آج کا دن تمہارے لئے خوشی کا دن ہے۔اللہ تعالیٰ تمہیں ہمیشہ ہی صحیح اور حقیقی معنی میں خوش رکھے لیکن یہ نہ بھولو کہ ایک اور دن بھی ہے جو کانووکیشن (CONVOCATION) سے بہت ملتا جلتا ہے گواصولی طور پر بہت مختلف بھی ہے اس سے اچھا کوئی اور دن نہیں جس دن فرشتوں کی ملاقات ہوتی ہے جس دن اللہ تعالیٰ کا دیدار نصیب ہوتا ہے اس دن امتحان میں پاس ہونے کی ہمیشہ جدو جہد کرتی رہو۔یہ دس پرچے جو میں نے بتائے ہیں ان کو سامنے رکھو، ان کے متعلق قرآن کریم نے جو نصاب ہمارے ہاتھ میں دیا ہے اس پر عمل کرنے کی کوشش کرو اور عاجزانہ راہوں کو اختیار کرتے ہوئے ہمیشہ اللہ تعالیٰ سے دعا کرتی رہو کہ ہم اپنی تمام تدبیروں، کوششوں استعدادوں اور طاقتوں کے باوجود کچھ بھی نہیں جب تک تیرا فضل ہمارے شامل حال نہ ہو۔پس اے ہمارے رب تو خود ہمیں توفیق عطا کر کہ ہم تیرے منشاء کے مطابق اپنی زندگیوں کو گزاریں اور وہ دن جس کے متعلق تو نے کہا کہ اس دن فرشتے ملیں گے اور اعلان کریں گے کہ هذَا يَوْمُكُمُ الَّذِي كُنْتُمْ تُوعَدُونَ اس دن دائیں ہاتھ میں ہماری سند ملے ایک غیر متناہی ترقیات اور غیر متناہی لذت وسرور کا سلسلہ ہمیں حاصل ہو اور اس زندگی کا جو مقصد ہے کہ ایک ابدی تعلق تیرے ساتھ پیدا ہو جائے۔اس مقصد کے حصول میں ہم اس وقت کامیاب ہوں۔اللہ کرے کہ ہم سب سے ایسا ہی سلوک ہو۔له مصباح جون ۱۹۶۸ء ص ۱۲ تا ۱۸