تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم

by Other Authors

Page 7 of 567

تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 7

7 تا کہ ایک نظام کے ماتحت عورتوں اور بچوں کو وہاں سے نکالا جا سکے۔اسی خطبہ جمعہ میں حضور نے قادیان سے مقیم بعض ایسی مخلص احمدی عورتوں کا بھی ذکر کیا جو کہ حد درجہ خطرناک حالات کے باوجود وو ایسی دلیر ہیں کہ وہ نکلنے سے انکار کر دیتی ہیں۔“ ٹرکوں کی جو تحریک حضور نے فرمائی تھی اس میں اللہ تعالیٰ نے غیر معمولی برکت ڈالی۔چنانچہ لاہور سے ٹرک مسلسل قادیان جانے لگے۔سب سے بڑا کنوائے ۱۱۔۱۲۔اکتو بر ۱۹۴۷ء کا تھا جس میں پہلے روز ۱۸ اور دوسرے روز ۷۲ ٹرک تھے۔آخری کنوائے ۱۶ نومبر ۱۹۴۷ء کو لاہور پہنچا۔ان کے ذریعے قادیان کے تمام احمدی بچے اور مستورات حفاظت کے ساتھ لاہور پہنچ گئے۔مستورات اور بچوں کے انخلاء کا یہ عظیم معرکہ کتنی سخت محنت اور جد و جہد سے سر کیا گیا۔اس کا اندازہ قمر الانبیاء حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کے ایک اہم مضمون کے مندرجہ ذیل اقتباس سے لگایا جا سکتا ہے۔آپ تحریر فرماتے ہیں:۔ہماری آنکھیں دیکھ رہی تھیں کہ قادیان اور اس کے ماحول میں فتنہ دن بدن بڑھ رہا ہے اور ضلع گورداسپور کے ایک ایک مسلمان گاؤں کو خالی یا تباہ کر کے قادیان کے اردگر د خطرہ کا دائرہ روز بروز تنگ کیا جارہا ہے اور دوسری طرف قریباً پچاس ہزار بیرونی پناہ گزینوں نے قادیان میں جمع ہو کر ہماری مشکلات میں اور بھی اضافہ کر دیا تھا اور ہم دیکھتے تھے کہ مفسد پردازوں کی سکیم صرف قتل و غارت یا لوٹ مار یا مسلمان آبادی سے ضلع کو خالی کرانے تک ہی محدود نہیں بلکہ اس میں مسلمان عورتوں کے ننگ و ناموس کو برباد کرنا بھی شامل ہے چنانچہ میری موجودگی میں ہی ماحول قادیان کی اغوا شدہ عورتوں کی تعداد سات سو تک پہنچ چکی تھی اور بہت سی معصوم عورتوں کی عصمت دری کے نظارے گویا ہماری آنکھوں کے سامنے تھے ) اس لئے ہم نے دوستوں کے مشورہ اور حضرت صاحب کی اصولی ہدایت کے ماتحت یہ فیصلہ کیا تھا کہ جہاں تک ممکن ہو عورتوں اور بچوں کو جلد از جلد قادیان سے باہر بھجوا دیا جائے اور اس کے لئے ہم قریباً مجنونانہ جد و جہد کے ساتھ دن رات لگے ہوئے تھے۔حتی کہ ایک دن میں نے انتہائی بے بسی کی حالت میں حضرت صاحب کو خط لکھا کہ ہمارے ارد گر خطرہ کا دائرہ بڑی سرعت کے ساتھ تنگ ہوتا جارہا ہے اور آپ کی ہدایت یہ ہے کہ کسی صورت میں بھی حکومت کا مقابلہ نہ کیا جائے (اور حکومت الفضل ۳۰ ستمبر ۱۹۴۷ء صفحہ ۸ کالم ۳-۴