تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم

by Other Authors

Page 3 of 567

تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 3

3 باب اوّل ۱۹۴۷ء کے آخری چار ماہ جماعت احمدیہ کے نئے دور کا آغاز احمدی خواتین کی شجاعت و جرات اور دلیری کے زریں کارنامے جماعت کا نیا مرکز : ۳۱ ظہور / اگست ۱۳۳۶ھ جماعت احمد جماعت احمدیہ کی تاریخ کا وہ اہم دن ہے کہ جب خرائی تقدیر اور سید نا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الہام دارغ ہجرت کے مطابق حضرت اصلح الموعود خلیفہ اسیح الثانی کو جماعت احمدیہ کے دائمی مرکز قادیان دار الامان سے مجبوراً ہجرت کرنا پڑی۔حضور اپنی حرم حضرت سیدہ مریم صدیقہ صاحبہ مدظلہ العالی اور اپنی بہو حضرت سیدہ منصورہ بیگم صاحبہ مدظلہا العالی حرم حضرت خلیفۃ اسیح الثالث ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کے ہمراہ ہندوستان سے پاکستان کی نوزائیدہ اسلامی مملکت میں تشریف لے آئے کہ حضور اسی تاریخ کو سوا بجے دو پہر حضرت نواب محمد علی خان صاحب کی کوٹھی دار السلام سے بذریعہ کا روانہ ہوئے اور ساڑھے چار بجے شام بخریت محترم شیخ بشیر احمد صاحب ایڈووکیٹ امیر جماعت احمد یہ لاہور کی کوٹھی واقع ۳ ٹمپل روڈ لاہور پہنچے اور اس طرح جماعت احمدیہ کے اُس دور کا آغاز ہوا جس کے متعلق خود حضور نے فرمایا تھا کہ:۔لے حضرت اُم المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دیگر تمام خواتین ۲۵۔اگست کو قادیان سے لا ہور تشریف لے آئی تھیں۔