تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم

by Other Authors

Page 84 of 567

تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 84

84 پڑھائی کا بوجھ ہوتا ہے اور پھر دینی تعلیم جس سے کہ لڑکیاں نا واقف ہوتی ہیں مگر لڑکیوں نے کسی قسم کا بوجھ محسوس نہ کیا اور ہر وقت محبت و پیار کرنے والی ہستیوں میں رہ کر بہت خوش ہوئیں۔اسی کا نتیجہ تھا کہ آئندہ کے لئے باوجو د ربوہ کی شدید گرمی کے لڑکیاں شوق سے کلاسوں میں شامل ہونے لگیں اور اب تک ہماری پیاری صد رسیدہ مریم صدیقہ صاحبہ مدظلہ العالی کی دلچسپی کی وجہ سے اپنے گھروں کے آرام چھوڑ کر تعلیم القرآن کلاس کی مشکل پڑھائی اور گرمی کے موسم کی شدت کے باوجو دلڑکیاں پہلے سے بہت زیادہ تعداد میں بلکہ لڑکوں سے بھی زیادہ شریک ہو رہی ہیں۔اس امتحان میں اوّل ، دوم اور سوم آنے والی طالبات کو تفسیر کبیر” الا زھا رلذوات الخمار (ایڈیشن اول ) اور ” تبلیغ ہدایت دی گئیں۔ستورات کراچی سے حضرت مصلح موعود کا خطاب : حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ۱۴۔فروری ۱۹۴۸ء کو لاہور سے سندھ تشریف لے گئے تھے وہاں سے ۱۲۔مارچ کو آپ کراچی پہنچے۔کراچی میں ۱۸۔مارچ کو لا بجے تھیوسافیکل ہال بندر روڈ میں حضور نے مستورات کراچی سے خطاب فرمایا۔ہاں عورتوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔تقریب ساڑھے چھ سوخواتین شریک ہوئیں جن میں کراچی کی معزز خواتین مثلاً لیڈی ہارون مع اپنی بہو بیٹیوں کے محترمہ بیگم شعبان صاحبہ محترمہ بیگم آفریدی صاحبہ، مسزاے۔جی خان صاحبہ، مسز ہلالی وغیرہ نے شرکت کی اور ہمہ تن گو ش ہو کر تقریر سنتی رہیں اور بے حد پسندیدگی کا اظہار کیا لے حضرت خلیفہ اسیح الثانی کا یہ اہم خطاب الازھار لذوات الخمار‘ (حصہ دوم ) طبع دوم میں شائع ہو چکا ہے۔اس تقریر میں حضور نے سورت الکوثر کی نہایت لطیف تفسیر فرماتے ہوئے آخر میں فرمایا:۔میہ ایک چھوٹی سی سورۃ ہے مگر قومی فرائض اور ذمہ داریوں کی وہ تفصیل جو اس سورۃ میں بیان کی گئی ہے اور اللہ تعالی سے امداد حاصل کرنے کے وہ ذرائع جو اس سورۃ میں بیان کئے گئے ہیں ان کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ سورۃ آج ہر پاکستانی کے سامنے رہنی چاہیئے خصوصاً ہر احمدی کا فرض ہے کہ اس سورۃ کے مضامین پر غور کرے اور اس کے مطابق اپنی عملی زندگی بنائے کیونکہ جماعت احمدیہ نے ایک نیا ل الفضل یکم اپریل ۱۹۴۸ صفحہیہ کالم نمبر۴