تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم

by Other Authors

Page 83 of 567

تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 83

83 ۲۳- امته النصیر صاحبہ بنت محترم قاری محمد امین صاحب ۲۴ علیمہ طاہرہ صاحبہ بنت محترم محمد عامل صاحب یہ نتیجہ جب حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کے سامنے پیش کیا گیا تو آپ نے تحریر فرمایا:۔مجھے تعلیم القرآن کی زنانہ کلاس کا نتیجہ دکھایا گیا ہے جو خدا کے فضل سے بہت خوشکن اور امید افزاء ہے۔یہ کلاس لجنہ اماءاللہ مرکزیہ کے انتظام میں جاری کی گئی تھی اور با وجود پہلا سال ہونے کے اس نے خدا کے فضل سے نمایاں کامیابی حاصل کی ہے چنانچہ قادیان سے آئی ہوئی طالبات اور لاہور کی مقامی طالبات کے علاوہ اس کلاس میں شمولیت کے لئے چنیوٹ، لائکپور، گوجرانوالہ، شیخوپورہ، گجرات اور راولپنڈی وغیرہ سے طالبات آئیں جن کی مجموعی تعداد ۳۴ تھی گو امتحان میں صرف ۲۴ طالبات شریک ہوئیں نصاب میں قرآن شریف ، حدیث، فقہ، علم کلام ، تاریخ ، عربی ادب اور فرسٹ ایڈ کے مضامین شامل تھے تعلیم کا انتظام بعض مخلص اور دیندار اساتذہ کے سپر دتھا اور پر دہ کا خاطر خواہ انتظام تھا۔اور یہ ایک نہایت درجہ خوشی کی بات ہے کہ۔۔۔۔سب کی سب طالبات امتحان میں کامیاب ہو گئیں (سوائے ایک کے جو کمپارٹمنٹ میں آئی ہے ) اور حق یہ ہے کہ جیسا کہ سُنا گیا ہے ان طالبات نے محنت میں بھی حد کر دی تھی۔ساری کلاس میں سیدہ امتہ القدوس صاحب سلمہا جو ہمارے بڑے ماموں صاحب کی صاحبزادی ہیں 411/450 نمبر لے کر اول آئی ہیں دوم نمبر پر قائنہ بیگم سلمها بنت خواجہ عبد الرحمن صاحب آف گوجرانوالہ نے 410/450 نمبر حاصل کئے اور تیسرے نمبر پر مولوی عبدالرحیم صاحب درد کی لڑکی صالحہ بیگم سلمہا نے 401/450 نمبر لیئے ہیں۔باوجود اس کے کہ یہ پہلی تعلیم القرآن کلاس تھی انتظامات میں پہلی مرتبہ ہونے کی وجہ سے کئی خامیاں بھی رہ سکتی تھیں۔بے سروسامانی تھی اور موسم بھی گرم تھا۔نہ صرف یہ کہ بہت کامیاب رہی بلکہ دلچسپ بھی رہی اور لڑکیاں بہت خوش رہیں۔اس کا سہرا حضرت سیدہ شوکت سلطان صاحبہ و حضرت سیدہ امتہ اللطیف صاحبہ بیگمات حضرت ڈاکٹر میرمحمد اسمعیل صاحب اور حضرت سیدہ صالحہ بیگم صاحبہ اہلیہ حضرت میر محمد الحق صاحب کے سر ہے جولڑکیوں کی ہر چھوٹی سے چھوٹی ضرورت کا خیال رکھتیں۔گو کھانا مہمان خانہ سے آتا تھا مگر آپ خود بھی سالن، چاول، اچار، چٹنی کا اہتمام فرما تھیں۔کلاس ہو تو الفضل یکم ستمبر ۱۹۴۸ء صفحریم