تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم

by Other Authors

Page 79 of 567

تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 79

79 سعادت عطا فرمائی۔میں نے ترجمہ کے دوران میں اس مقدس کتاب سے جو روحانی شیرینی اور پڑ کیف روحانی اثرات حاصل کئے وہ الفاظ میں بیان نہیں ہو سکتے۔خدا تعالیٰ نے مجھے اپنی رحمت سے نوازا۔جو روشنی میں نے قرآن کریم سے حاصل کی وہ خدا تعالیٰ کی صفت رحمانیت اور رحیمیت کا نتیجہ ہے۔خدا تعالیٰ نے میرے ساتھ بالخصوص اپنی رحمت کا سلوک کیا۔ترجمہ کے دوران میں میں قرآن کریم کی صداقت کی دل سے قائل ہو چکی تھی۔میں نے قرآن شریف سے لگا ؤ اور تعلق بڑھانے کے لئے لنڈن مسجد میں گاہے بگا ہے جانا شروع کیا اور احمدیت کا مطالعہ کرنا شروع کیا۔میرے ساتھ ہر دفعه برادرانه اخوت اور محبت کا سلوک کیا گیا اور میری روحانی تشنگی دور کرنے کے سامان مہیا کیے جاتے رہے۔اس محبت اور اخوت بھرے سلوک نے مجھے احمدیت کے بہت ہی قریب کر دیا۔ہالینڈ آنے پر تھوڑے عرصہ میں ہی یہاں مشن قائم ہو گیا۔یہاں تینوں مبلغین نے میری تربیت کے لئے اخلاص اور محنت سے کام کیا۔مجھے کتب مطالعہ کے لئے انہوں نے دیں۔زبانی لمبے لمبے وقت تک اپنا قیمتی وقت مجھ پر صرف کرتے رہے۔ان کی مخلصانہ کوششوں کی وجہ سے مجھے احمدیت جیسی نعمت دستیاب ہوئی۔میں ہمیشہ اپنے تینوں بھائیوں کی ممنون رہوں گی جن کے ہاتھوں میری نجات کے سامان مہیا ہوئے۔آخر میں میں نہایت ہی ادب سے درخواست کروں گی کہ ہم سب کے لئے دعائیں کرتے رہیں۔اس امر کے لئے خاص طور پر دُعا فرما دیں کہ اللہ تعالیٰ میرے خاوند اور میرے گھر کے دیگر افراد کے قلوب کو بھی اس روشنی سے منور کرے اور ان کی نجات کے لئے بھی سامان مہیا فرمائے۔میں خاص طور پر اپنے تینوں بھائیوں کے لئے بھی دعا کی درخواست کرتی ہوں۔اللہ تعالیٰ ہمارے ساتھ راضی ہو اور ہمیں اپنے فرائض کو مجھنے اور انہیں پوری طرح سرانجام دینے کی توفیق عطا فرمائے۔اللھم آمین۔محترم مرزا مبارک احمد صاحب وکیل اعلیٰ و وکیل التبشير تحریک جدید نے بھی ۱۹۶۲ء کے جلسہ سالانہ کے موقعہ پر اپنی تقریر بعنوان ” جماعت احمدیہ کا تبلیغی نظام اور اس کے نتائج میں مسز ناصرہ زمرمان (ہالینڈ) کے قبول اسلام کے واقعات بیان کیے۔مجلس شور می ۱۹۴۸ء اس سال مجلس شوری کے موقع پر سید نا حضرت مصلح موعود نے ایک دن کے لئے جانے کا پروگرام ا الفضل ۱۶ ستمبر ۱۹۴۸ صفحه ۵ کالم نمبرا تا ۴ کے جماعت احمدیہ کا تبلیغی نظام اور اس کے نتائج صفحہ ۱۵ تا صفحہ ۲۱