تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم

by Other Authors

Page 78 of 567

تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 78

78 ہوئے کہ حضرت مسیح ہمارے گناہوں کی خاطر مصلوب ہو گئے قرآن کریم کی تعلیمات میرے لئے صدمہ کا موجب ہوئیں۔کیونکہ قرآن کریم میں اعمال پر بہت زور دیا گیا ہے۔اور گناہوں کی پاداش میں سزا کا بھی ذکر ہے۔اس لحاظ سے بھی قرآن کریم کا ترجمہ کرنا میر لئے محال تھا۔آخر لمبی سوچ اور گہرے غور کے بعد میں نے اس مبارک کام کو سر انجام دینے کا فیصلہ کیا اور میں نے دفتر کے ڈائریکٹر سے تمام قرآن کا ترجمہ اپنے STYLE اور موجودہ ڈچ زبان میں کرنے کی اجازت لے لی۔میں نے دن اور رات اس کام کو سر انجام دینے کے لئے صرف کیا اور ابتدائی ۳۰ ، ۴۰ صفحات کا ترجمہ کر کے میں ڈائریکٹر کے پاس لے کر گئی۔اس موقع پر اس امر کا ذکر کئے بغیر نہیں رہ سکتی کہ جب میں ڈائر یکٹر کو ملنے گئی تو ہماری قرآن کریم کے متعلق لمبی گفتگو ہوئی۔ڈائر یکٹر نے اس مقدس کتاب کے متعلق نہایت ہی توہین آمیز کلمات استعمال کئے۔بعد میں بھی اس کا رویہ یہی رہا اور اس نے کئی بار متواتر وہاں قرآن کریم کی تو ہین کو جاری رکھا جس کا میری طبیعت پر بہت برا اثر ہوا۔لیکن جلد ہی جب میں اسے دوبارہ ملنے گئی تو میں نے اسے نہایت ہی تکلیف دہ حالت میں پایا۔اسے LAMBAGO کا شدید حملہ ہوا۔میں نے اسے فوری طور پر گھر پہنچانے کا انتظام کیا جہاں اگلے روز ہی وہ اِس جہاں سے رخصت ہو گیا۔کچھ روز بعد دوسری ڈائریکٹر جس نے اس گفتگو میں حصہ لیا تھا بیمار ہوئی اور اس مقد س کتاب کی تو ہین کی وجہ سے اللہ تعالی کی گرفت سے نہ بچ سکی اور ہسپتال میں اس جہان سے چل بسی۔ان واقعات نے میری طبیعت پر گہر اثر کیا۔لیکن ابھی خدا تعالی نے اس مقدس کتاب کی صدا قت کو میرے قلب پر اور منقوش کرنا تھا۔خدا تعالی کا کرنا ایسا ہوا کہ ان واقعات کے بعد اس دفتر کا TYPIST جس نے اس توہین آمیز اور مضحکہ خیز گفتگو میں حصہ لیا تھا جنوبی امریکہ گیا اس کے جانے کے تین ہفتہ کے اندر اندر ہی مجھے علم ہوا کہ وہ بھی الہی گرفت کا شکار ہو چکا ہے اور اس دُنیا سے کوچ کر گیا ہے۔ایک اور سیکرٹری جس نے اس تو ہین میں کبھی بھی حصہ نہ لیا تھا صحیح و سلامت رہی۔ان واقعات نے میری دُنیا ہی بدل ڈالی۔میری طبیعت پر قرآن کریم کی صداقت اور حقانیت کا سکہ بیٹھنا شروع ہوا اور اس کتاب کی عظمت کا میرے دل پر گہرا اثر ہوا۔ان ہی واقعات نے میری توجہ اسلام کی طرف مبذول کی۔میں نے ان واقعات کا اِس لئے بھی ذکر کر دیا ہے تا کہ یہ مخالفین کے لئے محبت کا باعث ہوسکیں۔میں اپنے مولا کریم کا شکر یہ ادا کرتی ہوں کہ اُس نے مجھے اس کام کے کرنے کی