تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم

by Other Authors

Page 71 of 567

تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 71

71 بے پردہ کلبوں میں لائیں۔“ حضور نے فرمایا: ” یہ عجیب بات ہے کہ جب مرد زندہ موجود ہیں تو سیاسی امور کے متعلق جلوس عورتوں سے کیوں نکلواتے ہیں۔“ اس کے بعد حضور نے فرمایا: ” عورتوں کو فنونِ حرب سے ضرور واقف کرانا چاہیئے تا وہ وقت آنے پر اپنی عصمت کی حفاظت کر سکیں۔اور جب جنگ میں عورت کی ضرورت پڑے تو وہ لڑے۔لیکن یہ امر یا درکھنا چاہیئے کہ خدا تعالیٰ نے مرد کولڑنے کے لئے بنایا ہے عورت کو نہیں۔عورت اس وقت ہی میدان جنگ میں حصہ لے سکتی ہے جب مرد نہیں رہے گا۔۔۔چنانچہ ہم نے قادیان میں عورتوں کو بندوق چلانا سکھایا اور موجودہ فتنہ میں جب کئی گھروں میں سکھ داخل ہو گئے اور عورتیں ان کا مقابلہ کرنے کے لئے اُٹھ کھڑی ہوئیں تو وہ بھاگ گئے۔حق میں ایک طاقت ہوتی ہے اسی وجہ سے ایک عورت نے دس دس پندرہ پندرہ سکھوں کو بھگا دیا اور ہماری قادیان کی عورتیں سو فیصدی محفوظ رہی ہیں سوائے ان کے جو میری ہدایت کے باوجود کہ کسی صورت میں بھی قافلہ میں سفر نہیں کرنا قافلہ میں چل پڑیں۔اور رستہ میں ان پر حملہ ہو گیا انہوں نے خلاف ہدایت اپنے گھروں کو چھوڑا۔‘لے چند اعتراضات اور اُن کے جواب: ۱۴ مئی ۱۹۴۸، حضرت مصلح موعود خلیفہ مسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے بمقام رتن باغ لا ہور نماز جمعہ پڑھائی اور خطبہ جمعہ میں ایک احمدی عورت کے چند اعتراضات کا ذکر کرنے کے بعد ان کا جواب دیا۔اعترضات اور ان کے جواب کا خلاصہ درج ذیل کیا جاتا ہے۔اعتراض: خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خواتین سادہ زندگی بسر نہیں کرتیں۔گھروں میں نوکر رکھے ہوئے ہیں۔سواری وغیرہ استعمال کرتی ہیں۔دوسروں کو گوٹہ کناری کو استعمال کرنے سے منع کیا جاتا ہے مگر خود استعمال کرتی ہیں۔الفضل ۲۳۔اپریل ۱۹۴۸ء صفحہ ۳۔۶ کالم نمبر ۹۴