تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 526
526 بحیثیت صدر لجنہ اماءاللہ مرکز یہ حضرت سیدہ مریم صدیقہ صاحبہ کی پہلی تقریر ( بر موقع جلسه سالانه ۱۹۵۸ء):- جیسا کہ پہلے بتایا جا چکا ہے کہ ۲۷۔۲۸ دسمبر کی درمیانی رات کو مجلس شوری میں حضرت سیدہ مریم صدیقہ صاحبہ متفقہ طور پر لجنہ اماءاللہ کی صدر منتخب ہوئیں جسے حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے بھی منظور فرمالیا۔صدر بننے کے بعد سب سے پہلی تقریر جو آپ نے ۲۸ / دسمبر کو جلسہ سالانہ کے موقع پر فرمائی وہ درج ذیل کی جاتی ہے:۔اس سال جیسا کہ پروگرام سے واضح ہے میں نے اپنی تقریر کا کوئی موضوع مقرر نہیں کیا۔کیونکہ بعض وجوہ کی بناء پر اجتماع نہ ہو سکا۔اور میں نے ارادہ کیا تھا کہ اس سال جلسہ سالانہ کے موقع پر آپ کے سامنے لجنہ کے سارے سال کا پروگرام بیان کروں۔تا کہ آپ پر واضح ہو جائے کہ دوران سال لجنہ مرکزیہ نے کیا کام سرانجام دیئے اور کس قسم کے کام کرنے کی ہم آپ سے توقع رکھتے دوران سال کا سب سے بڑا المناک حادثہ جو لجنہ اماءاللہ کو پیش آیا وہ حضرت ام ناصر ہیں۔کی وفات ہے۔آپ کا وجود حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بہو حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کی حرم اول اور لجنہ مرکزیہ کی صدر ہونے کے ایک اور اہمیت بھی رکھتا تھا۔وہ یہ کہ آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ اور موجودہ نسل کے درمیان ایک کڑی تھیں۔حضرت ام المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی وفات کے بعد دو ہستیاں ہمارے لئے خاص حیثیت رکھتی تھیں جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اپنی آنکھوں سے دیکھا اور اپنے ہاتھوں سے ان کی خدمت کی اور اپنے کانوں سے ان کی باتوں کو سنا۔ایک ام ناصر اور دوسری ام داؤد تھیں۔ہم سب جنہوں نے حضرت مسیح موعود کو نہیں دیکھا اس بات کی سخت تڑپ اپنے اندر رکھتی ہیں کہ کاش ہم اس زمانے میں ہوتیں اور اس مقدس ہستی کو اپنی آنکھوں سے دیکھ کر برکت حاصل کرتیں۔آپ میں سے بہت سی ایسی ہوں گی جنہوں نے حضرت ام المومنین کو نہیں دیکھا اور ہر ایک آپ میں سے یقینا یہ خواہش اپنے اندر رکھتی ہے کہ کاش ہم وہ زمانہ پالیتیں۔لیکن اب بھی آپ کے لئے اس سعادت کو حاصل کرنے اور اپنی روحانیت کو بڑھانے کا موقع ہے۔صحابیات بہت تھوڑی