تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم

by Other Authors

Page 520 of 567

تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 520

520 انتخاب صدر تیرھویں مجلس شوری فیصلہ کے مطابق جلسہ سالانہ ۱۹۵۸ء کے موقع پر ۲۷۔۲۸؍ دسمبر کی درمیانی شب کو زنانہ جلسہ گاہ کی سٹیج پر جنہ اماءاللہ کی تیرھویں مجلس شوری منعقد ہوئی۔مرکزی عہدہ داروں کے علاوہ ۴۳ مقامات کی نمائندگان نے اس میں شرکت کی۔سب سے پہلے جو تجویز پیش کی گئی وہ انتخاب صدر ہی کے متعلق تھی۔اس تجویز کے الفاظ یہ تھے:۔حضرت سیدہ ام ناصر کی وفات سے لجنہ اماءاللہ مرکزیہ کی صدر کا عہدہ خالی ہو چکا ہے اس لئے صدارت کا انتخاب کروایا جائے۔جب یہ تجویز پیش ہوئی تو حضرت سیدہ مریم صدیقہ صاحبہ مدظلہا جو اجلاس کی صدر تھیں۔سٹیج پر سے تشریف لے گئیں اور کرسی صدارت کے فرائض محترمہ استانی میمونہ صوفیہ صاحبہ کے سپر د کریئے۔نمائندگان نے حضرت سیدہ مریم صدیقہ جنرل سکرٹری کو اپنا صدر منتخب کیا۔جن لجنات کے نمائندے اجلاس میں موجود نہیں تھے۔انہوں نے بھی بذریعہ خطوط حضرت سیدہ مروجہ کے حق میں ہی رائے دی تھی۔اس طرح آپ صدر لجنہ اماءاللہ کے عہدہ جلیلہ پر (حضرت خلیفہ مسیح الثانی کی طرف سے منظوری ملنے کے بعد ) فائز ہوگئیں۔لجنہ اماء اللہ کی یہ خوش قسمتی ہے کہ اب تک اسی قابل فخر وجود کی قیادت اسے حاصل ہے اور اس عرصہ میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو ہر جہت سے لجنہ کو ترقی دینے ، ان میں قربانی، ایثار اور اخلاص فدائیت کی مومنانہ روح کو فروغ دینے اور دیگر اہم دینی تعلیمی اور تربیتی خدمات میں نمایاں اور ممتاز طور پر حصہ لینے کی توفیق عطا فرمائی ہے۔ذالك فضل الله يوتيه من يشاء صدر منتخب ہو جانے کے بعد آپ نے تشریف لا کر کرسی صدارت کو رونق بخشی۔ہر طرف سے مبارکباد اور الحمد اللہ کی آواز میں آرہی تھیں۔حضرت سیدہ ممدوحہ پر اس وقت نئے عہدہ کی گراں بہا اور نازک ذمہ داریوں کے احساس کی وجہ سے بے حد رقت طاری تھی اور آپ نے بھرائی ہوئی آواز