تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 515
515 اور کوئی اچھی دایہ میسر نہ آسکے اور ڈاکٹر کہے کہ اگر یہ کسی مرد ڈاکٹر سے اپنا بچہ نہیں جنوائے گی تو اس کی زندگی خطرہ میں ہے تو ایسی صورت میں اگر وہ کسی مرد سے بچہ نہیں جنوائے گی تو یہ گناہ ہوگا اور پردے کی کوئی پرواہ نہیں کی جائے گی۔حالانکہ عام حالات میں منہ کے پردے سے ستر کا پردہ زیادہ ہے لیکن اس کے لئے اعضاء نہانی کو بھی مرد کے سامنے کر دینا ضروری ہوگا۔بلکہ اگو کوئی عورت مرد ڈاکٹر سے بچہ نہ جنوائے اور مرجائے تو خدا تعالیٰ کے حضور وہ ایسی ہی سمجھی جائے گی جیسے اس نے خود کشی کی ہے۔غرض کوئی دقت ایسی نہیں جس کا ہماری شریعت نے اعلان نہیں رکھا۔مگر باوجود اتنے بڑے انعام کے کہ خدا تعالیٰ نے لوگوں کی سہولت کے لئے ہر قسم کے احکام دیئے ہیں اگر کوئی شخص پردہ کو چھوڑتا ہے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ قرآن کی ہتک کرتا ہے۔ایسے انسان سے ہمارا کیا تعلق ہوسکتا ہے۔وہ ہمارا دشمن ہے اور ہم اس کے دشمن ہیں۔اور ہماری جماعت کے مردوں اور عورتوں کا فرض ہے کہ وہ ایسے احمدی مردوں اور ایسی احمدی عورتوں سے کوئی تعلق نہ رکھیں۔یہ کوئی فخر کی بات نہیں کہ فلاں عورت بڑے مالدار کی بیوی ہے۔تمہارا فخر اس میں ہے کہ تمہارے فرشتوں سے تعلقات ہوں اور فرشتوں سے وہی لوگ ملتے ہیں جو خدا تعالیٰ کے کامل فرماں بردار ہوں۔پس ان لوگوں کی مت پروا کرو اور اس بات سے نہ ڈرو کہ اگر یہ لوگ الگ ہو گئے تو کیا ہو جائے گا۔اگر ان میں سے ایک شخص علیحدہ ہوگا تو اس کی جگہ ہزار آدمی تم میں شامل ہوگا بلکہ آئندہ ان کی جگہ ہزاروں بڑے بڑے مالدار تم میں شامل ہو نگے اور پھر ان کی تعداد خدا تعالیٰ کے فضل سے بڑھتی چلی جائے گی۔بلکہ میں سمجھتا ہوں کہ تم میں حیا پیدا ہوگئی تو تمہارے عمل کو دیکھ کر مسلمانوں کا شریف طبقہ بھی تمہاری اقتداء کرنے پر مجبور ہوگا بلکہ بعض باتوں میں تو اب بھی ہماری جماعت کے نمونہ کا لوگوں پر بھاری اثر ہے۔سیرت النبی اللہ کے جلسے:۔ے مندرجہ ذیل مقامات پر سیرت النبی کے جلسے منعقد ہوئے:۔سانگلہ ہل ۲ الازبار لذوات الخمار حصہ دوم طبع دوم صفحہ ۲۰۷ تا ۲۱۷ و الفضل ۲۷۔جون ۱۹۵۸ء صفه ۲-۶ الفضل ۹۔جولائی ۱۹۵۸ء صفحہ ۶