تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 44
44 ابتداء میں حلقہ مارٹن روڈ اور جہانگیر روڈ ایک ہی حلقہ تھا مگر بعد میں جہانگیر روڈ کا الگ حلقہ بنایا گیا۔حلقہ جہانگیر روڈ میں محترمہ امتہ الہادی صاحبہ اہلیہ محترم رشید الدین صاحب محترمہ نسیم خدیجہ صاحبہ محترمه گلزار آفتاب صاحبہ محترمه سلمی آفتاب صاحبہ محترمہ حمیدہ سلیم صاحبہ اور محترمہ محمودہ احمد صاحبہ نے قابل قدر کام کیا۔۱۹۵۲ء میں حلقہ ایسے سینیا لائنز کا قیام عمل میں آیا۔اس حلقہ میں محترمہ بیگم صاحبہ محترم حسیب بخش صاحب محتر مہ بیگم صاحبہ محترم صدیق شاہ صاحب محترم بیگم صاحبہ محترم ڈاکٹر محمد حسین صاحب محتر مہ امته الرشید صاحبہ بیگم صوفی مبارک احمد صاحب اور محترمہ بیگم صاحبہ محترم محمد اسمعیل صاحب بقا پوری نے اچھا کام کیا۔لجنہ اماءاللہ کراچی کے زیر انتظام درس القرآن کا سلسلہ بھی شروع کیا گیا۔سب سے پہلا درس رمضان المبارک میں محترمہ صاحبزادی ناصرہ بیگم صاحبہ نے دیا جو ان دنوں کراچی میں مقیم تھیں۔ان کے علاوہ محترمہ آمنہ بیگم صاحبہ اہلیہ محترم چوہدری عبد اللہ خاں صاحب اور محترمہ خضر سلطانہ صاحبہ بھی درس دیتی رہیں۔۱۹۵۲ء میں حلقہ ناظم آباد کی صدر محترمہ اہلیہ صاحبہ محترم محمد عیسی صاحب بھاگل پوری کی علالت کی وجہ سے محترمہ بیگم صاحبہ محترم انتظار حسین صاحب صدر، محترمہ بیگم صاحبہ محترم مسعود احمد صاحب خورشید نائب صدر اور محترمہ بیگم شریف صاحبہ سیکرٹری مقرر ہوئیں۔۱۹۵۵ء میں لجنہ اماءاللہ کراچی میں چند اور حلقہ جات قائم ہوئے جن کے نام یہ ہیں۔پیرالہی بخش کالونی، مالیر کینٹ ، ڈرگ روڈ اور ماڑی پور۔ان حلقہ جات میں محترمہ آمنہ بائی صاحبہ محترمہ سیدہ جمیلہ خاتون صاحبہ محترمہ انور بیگم صاحبہ اہلیہ محترم فضل حق صاحب، محترمہ عائشہ بٹ صاحبہ محترمہ ہاجرہ بیگم صاحبه محترمه فهمیده بخاری صاحبہ محترمہ بیگم صاحبہ محترم محمد حسین صاحب محتر مہ امتہ الحی طلعت صاحبه، محترمه ساره نیم صاحبہ محترمہ طاہرہ نصیر شاہ صاحبه محترمه فهمیده لطیف صاحبه، محترمہ بیگم اشرف صاحبه، محترمہ بیگم نسیم صاحبہ محترمہ ممتاز اسلم صاحبہ محترمہ سعیدہ خالدہ صاحبہ محترمہ امتہ الطیف اہلیہ بشیر احمد صاحب اور محترمہ امتہ السلام صاحبہ نے خدمات سرانجام دیں۔ل دختر مولوی عبدالغفور صاحب فاضل مرحوم مربی سلسہ احمدیہ