تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم

by Other Authors

Page 510 of 567

تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 510

510 ایک اہم خطبہ جمعہ:۔۲۶؍ دسمبر ۱۹۵۸ء کو حضرت خلیفہ اسی رضی اللہ عنہ نے خطبہ جمعہ میں بتایا کہ مردوں کی طرح خلیفة المسیح عورتوں کے لئے دین سیکھنے کے مواقع ہمیں مہیا کرنے چاہئیں کیونکہ ان میں بھی اخلاص کے بڑے بڑے قابل قدر نمونے موجود ہیں۔حضور نے فرمایا:۔”جمعہ اسلام کے نہایت اہم ارکان میں سے ہے۔قرآن کریم اس کے متعلق فرماتا ہے۔اذا نودى الصلواة من يوم الجمعة فاسعو الى ذكر الله۔یعنی جب جمعہ کی اذان ہو تو تم جلدی جلدی باقی کام چھوڑ کر جمعہ کی نماز کے لئے چلے جایا کرو۔حقیقت یہ ہے کہ نماز جمعہ مسلمانوں کے لئے مدرسہ کے طور پر ہے۔اس میں لوگ امام سے مختلف باتیں سنتے ہیں جن میں انہیں دین کی طرف توجہ دلائی جاتی ہے۔رسول کریم علیہ کے زمانہ میں جماعت کا مرکزی حصہ مدینہ میں رہتا تھا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں جماعت کا مرکزی حصہ قادیان میں رہتا تھا۔اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کبھی کبھی عورتوں میں بھی تقریر فرمایا کرتے تھے جس طرح حضرت رسول کریم ﷺ بھی بھی کبھی عورتوں میں تقریر فرمایا کرتے تھے۔حضرت خلیفہ مسیح الا ول بھی عورتوں میں ہر تیسرے دن درس دیا کرتے تھے۔اب ہماری باہر کی جماعتیں درس القرآن سے فائدہ نہیں اٹھا سکتیں کیونکہ ہمارے پاس نہ تو زیادہ عالم ہیں اور نہ مبلغ ہیں۔اس لئے عورتوں کو اسلام نے ہدایت دی ہے کہ وہ نماز جمعہ میں شامل ہوا کریں۔مجھے یہ بات سن کر نہایت افسوس ہوا کہ ہزارہ کے مبلغ نے مجھ سے ذکر کیا کہ صوبہ سرحد میں عورتیں جمعہ میں نہیں جاتیں کیونکہ ان کے مرد کہتے ہیں کہ ہم خان ہیں ہماری اس میں بہتک ہوتی ہے۔لیکن اسلام کا رتبہ خانوں اور پٹھانوں سے بھی بڑا ہے لیکن اگر وہ بار بار دین کی باتیں سنتی رہیں تو جب ایک جانور بھی بار بار سن کر ایک بات سمجھ لیتا ہے تو عورت تو آخر انسان ہے اور خدا تعالیٰ نے اسے بڑا روشن دماغ دیا ہوا ہے۔اگر وہ خدا اور اس کے رسول کی باتیں بار بار سنے گی تو وہ باتیں اسے یاد ہو جائیں گی اور وہ پکی مسلمان ہو جائے گی۔لیکن اگر وہ دین کی باتیں بار بار نہیں سنے گی تو اس کا سلام پختہ نہیں ہوگا وہ کچا رہے گا اور وہ موقعہ پر پوری طاقت نہیں دکھا سکے گی۔لیکن جو عورتیں اسلام کو سمجھ جاتی ہیں وہ بعض دفعہ اپنے ایمان میں اتنی پختہ ثابت ہوتی ہیں کہ انہیں دیکھ کر حیرت ہوتی