تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 494
494 کے فضل سے ہماری عورتیں مردوں سے زیادہ دلیر ہیں۔مجھے یاد ہے ایک دفعہ قادیان میں غیر احمدی علماء نے جلسہ کیا۔پولیس اور گورنمنٹ ان کی تائید میں تھی۔مولوی ثناء اللہ صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور احمدیوں کو بُرا بھلا کہا۔اور پولیس نے بھی عوام کے ساتھ مل کر جماعت کے خلاف نعرے لگائے جس کی وجہ سے مولوی ثناء اللہ صاحب اور بھی دلیر ہوگئے۔قادیان کے قریب ہی ایک گاؤں بھینی بانگر ہے اس جگہ کی ایک عورت وہاں سے گذری۔اس نے گالیاں سنیں تو کھڑی ہو گئی اور پنجابی میں بلند آواز سے کہنے لگی ” تیرے دادے داڑھی ہکیا تو مرزا صاحب نوں گالیاں کیوں دینا ایں کیونکہ اس وقت جماعت کو صبر وتحمل کی بار بار تلقین کی گئی تھی اس لئے جماعت کے جو دوست وہاں کھڑے تھے وہ اس عورت کے پیچھے پڑ گئے اور اسے کہنے لگے بی بی تو نہ بول۔بعد میں پولیس نے اس عورت کو دھکے دے کر باہر نکال دیا۔مجھے پتہ لگا تو میں نے جماعت پر بڑی خفگی کا اظہار کیا اور میں نے کہا۔تم نے بڑی کمینگی کی کہ تم مرد ہو کر چپ ہو گئے۔تمہیں تو اس موقعہ پر اپنی غیرت کا مظاہرہ کرنا چاہیئے تھا اور اس عورت پر کسی شخص کو ہاتھ اٹھانے کی اجازت نہیں دینی چاہئے تھی۔تو خدا تعالیٰ کے فضل سے پرانے زمانہ سے ہی جماعت میں ایسی دلیر اور مخلص عورتیں موجود رہی ہیں۔کسی زمانہ میں یہ نمونہ ابتدائی مسلمانوں میں پایا جاتا تھا۔لیکن اب اس کا نمونہ احمدیت جو حقیقی اسلام ہے پیش کر رہی ہے۔اس نمونہ کو یا در کھتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے دعا کرو کہ وہ ہمارے اندر ایسے لاکھوں نمونے پیدا کرے۔“ اے ۱۹۵۷ء میں رپورٹ بھیجوانے والی لجنات :۔۱۹۵۷ء میں مندرجہ ذیل لجنات کی طرف سے رپورٹ بھجوانے میں کوئی ناغہ نہیں ہوا۔ا۔ربوہ ۲۔ملتان چھاؤنی ۳۔کراچی ۴۔گوجرانوالہ ۵- گوجر خان۔لاہور شہر دوسرے نمبر پر وہ بجنات ہیں جن کی طرف سے ایک یا دونانے ہوئے ہیں وہ مندرجہ ذیل ہیں:۔ا۔احمد نگر ۲۔جڑانوالہ ۳۔مونگ ضلع گجرات ۴۔محمد آباد اسٹیٹ ا الفضل ۸۔جنوری ۱۹۵۸ء صفحه ۴