تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 452
452 میں جا کر حضور کو ملے۔اس موقع پر خاکسار نے حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کی تقریر ہوشیار پور کے بعض اہم حصے حاضرات کو سنائے۔اس طرح حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کی صحت و عافیت اور درازی عمر کے لئے دعاؤں کے ساتھ یہ جلسہ ختم ہوا۔تبلیغی اور تربیتی پروگرام کو وسیع کرنے کے لئے ہماری لجنہ نے ایک اہم کام کیا۔انہوں نے چندہ جمع کر کے تامل زبان میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم۔اے کی تصنیف ”اچھی مائیں“ شائع کی۔یہ کتاب لجنہ کے اجلاس میں تامل زبان میں سنائی جاتی رہی اور اتنی پسند کی گئی کہ ترجمہ کرنے کا فیصلہ ہوا۔چنانچہ گرانی کے باوجود لجنہ نے اپنافنڈ مضبوط کیا اور مکرم عبدالمجید صاحب پریذیڈنٹ نیگومبو جماعت وایڈیٹر اسلامی سمورین نے ترجمہ کر کے اپنے پریس میں اسے شائع کیا۔اس کتاب میں لجنہ اماءاللہ کی اہمیت اور ضرورت کے متعلق بھی ایک صفحہ لکھا گیا۔لجنہ کو مالی لحاظ سے بہت قربانیاں کرنے کی توفیق ملتی رہی گو کہ یہاں کی نوے فیصد احمدی بہنیں از حد غریب ہیں اور بعض کو تو ہاتھ سے کام کر کے خود ہی کمانا پڑتا ہے۔تاہم ان میں سے اکثر چندہ ممبری با قاعدہ ادا کرتی ہیں اور تحریک جدید کے چندوں میں بھی اس سال بہت سی خواتین نے حصہ لیا۔اور بچوں کو بھی تیار کیا۔دفتر لجنہ کے لئے بہنوں نے چندہ دیا۔حضور کی تحریک سکنڈے نیوین مشن میں حصہ لینے کی تحریک کی گئی۔فورا ہی ۳۳ روپے کی رقم جمع ہوگئی۔لجنہ کے زیرا ہتمام ناصرات الاحمدیہ کی تربیت کا کام بھی با قاعدہ ہورہا ہے۔جماعت نے بچوں کی تربیت اور قرآن مجید کی تعلیم کے لئے ایک تنخواہ دار استاد رکھا ہوا ہے۔جو ہر روز لڑکوں اور لڑکیوں کو پڑھاتا ہے۔طلباء وطالبات کی تعداد پچاس ہے۔قرآن مجید ناظرہ، نماز ناظرہ و ترجمہ، احکام اسلام معہ قرآنی سورتیں ، معلومات عامہ یاد کرائی جاتی ہیں۔لجنہ نے ناصرات کے لئے ہفتہ وار کلاس شروع کی ہے جس میں تربیت اور تعلیم کا انتظام تندہی سے کیا جاتا ہے۔اس علاقہ میں دینی تعلیم کے لحاظ سے احمدی بچے باقی بچوں سے بدر جہا بہتر ہیں اور تعلیم میں بھی ان کا معیار خوش کن ہے۔یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ سارے سیلون میں جہاں پانچ لاکھ مسلمان ہیں صرف نیگومبو میں