تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم

by Other Authors

Page 451 of 567

تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 451

451 کا کام بھی شروع کیا۔چنانچہ اکتوبر ۱۹۵۶ء میں چند چیزیں مرکز کو ارسال کیں۔ہر اجلاس میں عورتوں کو ایک حدیث یاد کرانے کے لئے نوٹ بک میں مع انگریزی ترجمہ لکھ کر دی جاتی رہی۔چالیس احادیث اخبار رتھ میں شائع کرائی گئیں۔دوران سال مذہبی سوالات پر مشتمل چھ سر کلر لکھے گئے۔لجنہ کا کام لیگوس کے علاوہ دیگر مقامات میں بھی شروع ہو گیا۔وہاں خطوط لکھے جاتے اور اخبار ٹرتھ اور کتابیں ارسال کی جاتی تھیں۔مختلف تقریبات کا انتظام لجنہ کے سپرد ہوتا رہا اور وہ بخوبی سرانجام دیتی رہیں۔دسمبر میں جماعت نائیجیریا کا سالانہ جلسہ ہوا۔۲۰ کے قریب احمدی عورتوں نے اپنی خدمات پیش کیں اور شوق سے کام کیا۔۲۵ / دسمبر کو مستورات کا جلسہ ہوا۔تلاوت کے بعد خلافت سے وفاداری کا ریزولیوشن پاس ہوا۔پھر اہلیہ شیخ نصیر الدین احمد صاحب اور اس کے بعد خا کسار نے تقاریر کیں۔بشری سیفی نے مضمون پڑھا۔لجنات نے اپنی اپنی سالانہ رپورٹیں سنائیں۔اول۔دوم۔سوم آنے والی لجنات کو انعام دیئے گئے۔سیلون (نیگمبو ):۔محتر مہ مبارکه نسرین صاحبہ اہلیہ مکرم مولوی محمد اسمعیل صاحب منیر نے تحریر فرمایا :۔لجنہ کا اجلاس ہر ہفتہ با قاعدگی سے ہوتا ہے جو عام طور پر دو گھنٹے جاری رہتا ہے۔ہر ماہ کی ایک میٹنگ میں مولوی محمد اسمعیل صاحب منیر مبلغ سلسلہ بھی شمولیت کرتے رہے اور مرکز کی خبروں اور اہم مضامین سے لجنہ کو آگاہ کرتے رہے اور اکثر مجھے بھی تقریر کرنے کا موقع ملتا رہا۔یوم مصلح موعود کا جلسہ کرانے کی توفیق ملی۔بعض حالات کی بناء پر جلسہ ۲۰ فروری کی بجائے مارچ کو کیا گیا۔اس میں تقریباً سب احمدی مستورات حاضر تھیں۔علاوہ نیگومبو کی عورتوں کے کولمبو سے آئی ہوئی ایک احمدی فیملی بھی شامل ہوئی۔دو ممبرات نے مضمون پڑھے اور پھر مولوی محمد اسمعیل صاحب منیر نے پیشگوئی مصلح موعود کی تفصیل اور ضرورت پر تقریر کی اور اس کے نتیجہ میں ہماری ذمہ داریاں بتائیں۔اس کے بعد سیلون کے سکرٹری صاحب تبلیغ نے بھی تقریر کی اور مصلح موعود کے وجود کی اہمیت اور برکات پر روشنی ڈالی اور بتایا کہ ہر آدم کو عزم کرنا چاہیے کہ وہ حضور کی زندگی میں مرکز