تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم

by Other Authors

Page 436 of 567

تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 436

436 جب قادیان میں ہندوؤں اور سکھوں نے حملہ کیا تو شہر کے باہر کے ایک محلہ میں ایک جگہ پر عورتوں کو اکٹھا کیا گیا اور ان کی سردار بھی ایک عورت ہی بنائی گئی جو بھیرہ کی رہنے والی تھی۔اس عورت نے مردوں سے بھی زیادہ بہادری کا نمونہ دکھایا۔ان عورتوں کے متعلق یہ خبریں آئی تھیں کہ جب سکھ اور ہند وحملہ کرتے تو وہ عورتیں ان دیواروں پر چڑھ جاتیں جو حفاظت کی غرض سے بنائی گئی تھیں اور ان سکھوں اور ہندوؤں کو جو تلواروں اور بندوقوں سے ان پر حملہ آور ہوتے تھے بھگا دیتی تھیں اور سب سے آگے وہ عورت ہوتی تھی جو بھیرہ کی رہنے والی تھی اور ان کی سردار بنائی گئی تھی۔اب بھی یہ عورت زندہ ہے لیکن اب وہ بڑھیا اور ضعیف ہو چکی ہے۔وہ عورتوں کو سکھاتی تھی کہ اس اس طرح لڑنا چاہیئے اور لڑائی میں ان کی کمان بھی کرتی تھی۔خطاب جاری رکھتے ہوئے حضور نے عورتوں کو مردوں کو قربانی پر آمادہ کرنے کی ترغیب دیتے ہوئے فرمایا:۔پس جیسا کہ میں نے بتایا ہے کہ مردوں سے کام لینا بھی عورتوں کو آتا ہے۔وہ انہیں تحریک کر کے قربانی کے لئے آمادہ کر سکتی ہیں اور اس کی ہمارے ہاں بھی بہت سی مثالیں موجود ہیں کہ عورتوں نے اپنے مردوں کو تحریک کی اور انہوں نے قربانیاں کیں۔آخر دیکھ لو۔ہمارے کئی مبلغ ایسے ہیں جو دس دس پندرہ پندرہ سال تک بیرونی ممالک میں فریضہ تبلیغ ادا کرتے رہے اور وہ اپنی نئی بیاہی ہوئی بیویوں کو پیچھے چھوڑ گئے۔ان عورتوں کے اب بال سفید ہو چکے ہیں۔لیکن انہوں نے اپنے خاوندوں کو کبھی یہ طعنہ نہیں دیا کہ وہ انہیں شادی کے معا بعد چھوڑ کر لمبے عرصہ کے لئے باہر چلے گئے تھے۔ہمارے ایک مبلغ مولوی جلال الدین صاحب شمس ہیں۔وہ شادی کے تھوڑا عرصہ بعد ہی یورپ تبلیغ کے لئے چلے گئے تھے۔ان کے واقعات سن کر بھی انسان کو رقت آجاتی ہے۔ایک دن ان کا بیٹا گھر آیا اور اپنی والدہ سے کہنے لگا۔اماں! ابا کسے کہتے ہیں؟ سکول میں سارے بچے ابا ابا کہتے ہیں۔ہمیں پتہ نہیں کہ ہمارا ابا کہاں گیا ہے؟ کیونکہ وہ بچے ابھی تین تین چار چار سال کے ہی تھے کہ شمس صاحب یورپ تبلیغ کے لئے چلے گئے اور جب وہ واپس آئے تو وہ بچے ۱۸،۱۸،۱۷،۱۷ سال کے ہو چکے تھے۔ا یہ خاتون جولائی ۱۷۱ء کو وفات پاچکی ہیں۔ان کا نام خدیجہ بیگم اہلیہ خان بہادر غلا محمد صاحب گلکتی ہے۔تبلیغ کا بہت شوق تھا۔مالی تحریکات میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی تھیں۔