تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 397
397 پر کھولا جائے۔جو اس کو چلانے کے اخراجات ادا کریں۔اس مشن پر انیس ہیں ہزار روپیہ سالانہ خرچ کا اندازہ ہے۔میں نے یہ تجویز کی ہے کہ چندہ تحریک جدید کے علاوہ جماعت ہائے امریکہ کوشش کریں کہ اس مشن کے لئے تین ہزار روپے دیں۔تین ہزار روپے جماعتہائے افریقہ ، شام اور عدن دیں۔تین ہزار روپیہ لجنہ اماءاللہ دے۔سات ہزار روپیہ پنجاب کی جماعتیں دیں۔اس میں سے ضلع راولپنڈی کو میں نکال لیتا ہوں۔تین ہزار روپیہ کی رقم بلوچستان سرحد اور ضلع راولپنڈی کی جماعتیں دیں۔تین ہزار روپیہ کی رقم متفرق احباب دیں جو مرکز میں براہ راست چندہ بھجواتے ہیں۔اس طرح امید ہے کہ میں اکیس ہزار روپیہ کی رقم اکٹھی ہو جائے گی۔اس مشن کے ہیڈ کوارٹر پر جو بورڈ لگایا جائے گا اس پر یہ لکھ دیا جائے کہ اس مشن کو جماعت ہائے احمدیہ امریکہ، افریقہ، شام، عدن، لجنہ اماء الله، پنجاب، سرحد، بلوچستان، ضلع راولپنڈی اور متفرق احباب چلا رہے ہیں۔یہ رقم جو میں نے مقرر کی ہے ابھی تھوڑی ہے۔لیکن مجھے یقین ہے کہ جب دوست اس نیک کام میں حصہ لیں گے تو خدا تعالیٰ ان کوششوں میں برکت دے گا اور جماعت کو بڑھانا شروع کر دے گا اور اس کے نتیجہ میں چندہ بھی بڑھ جائے گا۔لجنہ اماءاللہ کنری:۔۱۹۴۲ء میں ہاجرہ بیگم صاحبہ اہلیہ ڈاکٹر احمد دین صاحب نے یہاں لجنہ اماءاللہ قائم کی۔آپ نے عرصہ دراز تک صدارت کے فرائض سرانجام دیئے۔محترمہ بیگم صاحبہ مولوی عبدالباقی صاحب امیر جماعت کنری نے ۱۹۵۰ء سے ۱۹۵۶ء تک خدمات سرانجام دیں۔ان کے کام کے متعلق مکرم شجاعت علی صاحب انسپکٹر بیت المال نے مندرجہ ذیل ریمارک مورخہ ۳۰ رمئی ۱۹۵۵ء کوتحریر کیا :- میں نہایت مسرت سے اس امر کا اظہار کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہاں کی لجنہ شاندار کام کررہی ہے۔ممبرات کی کل تعداد ۶۵ ہے اور اوسط حاضری ۳۳ ہوتی ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ پچاس فیصدی سے زیادہ مستورات دینی اور جماعتی کاموں میں حصہ لیتی ہیں۔“ ل الفضل ۲۶ اکتوبر ۱۹۵۵ء صفحه ۵ نیز الازهار صفحه ۱۵۷