تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 395
395 حضرت امیر المومنین کی ایک تقریر کے ان حصوں کا جن کا تعلق مستورات سے تھا انگریزی میں ترجمہ کر کے پمفلٹ تیار کئے گئے اور انہیں بیرونی ممالک میں بھجوایا گیا۔امریکہ، انڈو نیشیا اور ہالینڈ کی لجنات کو تقسیم کئے گئے۔رپورٹ لجنہ اماءاللہ نائیجیریا:۔محترمہ سکینہ سیفی صاحبہ اہلیہ مکرمہ نیم سیفی صاحب انچارج نائیجر یا مشن نے تحریر فرمایا :۔نائیجیریا میں سب سے اول محترم مولوی فضل الرحمن صاحب حکیم کے زمانہ میں (۱۹۳۴ء تا ۱۹۴۷ء) لجنہ اماءاللہ قائم ہوئی۔اور احمدی عورتوں کے ہفتہ وار اجلاس بھی ہونے لگے تعلیم بالغاں کے حکومتی پروگرام کے تحت ایک کلاس بھی جاری تھی لیکن ان پروگراموں میں شامل ہونے والی عورتوں کی تعداد بہت کم ہوتی تھی۔میں ۱۹۵۳ء میں اپنے خاوند مولوی نور محمد صاحب سیفی کے پاس نایجیر یا پہنچی اور دس سال وہاں رہ کر ۱۹۶۴ ء میں واپس آئی۔اس سے قبل بھی مجھے قادیان میں اور پھر ہجرت کے بعد حافظ آباد اور پھر دار الرحمت ربوہ میں لجنہ اماء اللہ کا کام کرنے کی توفیق ملتی رہی تھی۔اس لئے میں نے وہاں پہنچتے ہی احمدی عورتوں کو بیدار کرنے اور لجنہ کے کام میں باقاعدگی پیدا کرنے کی کوشش شروع کر دی جس کے نتیجہ میں ہفتہ وار اجلاس زیادہ با قاعدگی سے ہونے لگے اور ان میں تعلیم و تربیت کی طرف خاص طور پر توجہ دی گئی۔عزیزہ بشری سیفی حضرت مسیح موعود علیہ السلام یا حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی کسی روح پرور نظم کا انگریزی میں ترجمہ کر کے سناتی رہیں اور دوسرے اسلامی مسائل کے بارے میں بھی بتایا جاتا رہا۔چندوں میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوا۔لیگوس کے علاوہ جو کہ ہمارا مرکز ہے ملک کے دیگر مقامات کی احمدی جماعتوں میں بھی جا کر بہنوں کو لجنہ کے پروگرام سے واقف کیا جاتا رہا۔چنانچہ نومبر ۱۹۵۵ء میں اجیبو اوڈے کا دورہ کیا۔۱۹۵۵ء کے جلسہ سالانہ کے ساتھ پہلی بار لجنہ اماءاللہ نائیجریا نے اپنا سالانہ جلسہ منعقد کیا۔اس جلسے میں لیگوس سے باہر کی لجنات نے بھی بہت دلچسپی کا اظہار کیا۔خاکسار نے لجنہ کی اہمیت پر تقریر کی