تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم

by Other Authors

Page 27 of 567

تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 27

27 لاہور میں احمدی خواتین کے قیام اور رہائش کا کٹھن مرحلہ: - قادیان سے جو عورتیں اور بچے سکھوں کی برستی گولیوں کے درمیان سے گزر کر گویا یقینی موت کے منہ سے بیچ کر ٹرکوں کے ذریعے انتہائی بے سروسامانی کے عالم میں لاہور پہنچے تھے ان کی رہائش اور قیام و خوراک کا انتظام بجائے خود ایک بہت کٹھن اور پیچیدہ مسلہ تھا کیونکہ سلسلہ کا سارا نظام درہم برہم ہو چکا تھا۔کارکنوں کی شدید قلت تھی۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی اور حضور کے اہلِ بیت خود مہاجر ہوکر پناہ گزینی کی حالت میں رتن باغ لاہور کی ایک ایسی کوٹھی میں مقیم تھے جو تعداد افراد کے مقابلہ میں بہت ہی چھوٹی اور نا کافی تھی۔سامان کی اور جگہ کی سخت قلت تھی۔اور ادھر ہزاروں کی تعداد میں جو مہاجرین مسلسل پہنچ رہے تھے ان کی غالب اکثریت عورتوں، بچوں اور ضعیف العمر اصحاب پر مشتمل تھی۔ان میں سے بہت سے کمزور اور بیمار بھی تھے جوفوری توجہ اور علاج کے مستحق تھے۔ان کے پاس نہ کافی کپڑے تھے اور نہ بستر اور نہ دیگر سامان مگر حضرت خلیفہ اسیح الثانی الصلح الموعودؓ کی ہدایت کے مطابق حضرت سیدہ مریم صدیقہ صاحبہ مدظلہا کے زیر انتظام آنے والے مہاجروں۔۔۔کے اہل وعیال کو ہر ممکن آرام اور سہولت دینے کی کوشش کی گئی۔پیشتر اس کے کہ یہ بتایا جائے کہ حضور اور حضور کے اہل بیت نے آنے والی عورتوں اور بچوں کی رہائش اور انکی سہولت کے لئے کیا انتظامات کئے یہ بتایا جاتا ہے کہ اس وقت خود حضور کے خاندان کی کیا حالت تھی اور حضور نے اپنے خاندان کے افراد کے لئے خوردونوش کا کیا انتظام فرمایا۔اس کی تفصیل بتاتے ہوئے خود حضور نے فرمایا کہ:۔ہم جب قادیان سے آئے اس وقت ہمارے خاندان کی تمام جائیدادیں پیچھے رہ گئی تھیں اور ہمارے پاس کوئی روپیہ نہیں تھا۔بعض دوستوں کی امانتوں کا صرف نو سو روپیہ میرے پاس تھا۔ادھر ہمارے سارے خاندان کے دوسو کے قریب افراد تھے اور ان میں سے کسی کے پاس روپیہ نہیں تھا اس حالت میں میں نے یہ نہیں کیا کہ لنگر سے کھانا منگوا نا شروع کر دوں بلکہ میں نے سمجھا کہ وہ خدا جو پہلے دیتارہا ہے اب بھی دے گا۔چنانچہ میں نے اپنے خاندان کے سب افراد سے کہا کہ تم فکر مت کر وسب کا کھانا اکٹھا تیار ہو ا کرے گا اور ایسا ہی ہوا۔اپنے تمام افراد کے کھانے کا انتظام میں نے کیا اور برابر کئی ماہ تک اس بوجھ کو اٹھایا۔آخر کسی نے چھ ماہ کے بعد اور کسی نے نو ماہ کے بعد اپنے اپنے کھانے کا الگ انتظام کیا۔اس عرصہ میں وہ لوگ جن کا روپیہ میرے پاس امانتا پڑا ہوا تھا وہ بھی اپنا روپیہ لے