تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم

by Other Authors

Page 333 of 567

تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 333

333 خواتین کی تنظیم کی ذمہ دارتھی۔مورخ ۲۳ جنوری ۱۹۵۳ء بروز جمعہ لجنہ اماءاللہ مرکز یہ کا اجلاس محترمہ استانی میمونہ صوفیہ صاحبہ کی صدارت میں منعقد ہوا۔اس میں یہ تجویز پیش ہوئی کہ لجنہ اماءاللہ ربوہ کو مرکزی لجنہ کی نگرانی سے علیحدہ کر دیا جائے اور لجنہ اماءاللہ مرکزیہ کی نگرانی ربوہ کی لجنہ پر بھی اسی طرح ہو جس طرح باقی بیرونی لجنات پر ہوتی ہے۔“ اس پر متفقہ طور پر فیصلہ ہوا کہ دو ایسا ہی ہونا چاہیے۔اس کے لئے تمام محلہ جات کو کہا جائے کہ ربوہ کی لجنہ کے لئے صدر اور سیکرٹری کے نام تجویز کر کے بھجوائیں تا کہ مقرر کی جائیں۔“ ۲۰ مارچ کے اجلاس میں محلہ جات کی آراء کی روشنی میں متفقہ طور پر فیصلہ ہوا کہ محترمہ صاحبزادی ناصرہ بیگم صاحبہ کو مقامی لجنہ کی پریذیڈنٹ مقرر کیا جائے۔“ صاحبزادی سیدہ ناصرہ بیگم صاحبہ گذشتہ اٹھارہ سال سے لجنہ ربوہ کی صدر ہیں۔آپ کی نگرانی اور توجہ کی وجہ سے ربوہ کے مختلف حلقہ جات میں لجنہ نے نمایاں ترقی کی ہے اور مختلف شعبوں میں اسے قابل قدر کام کرنے کی توفیق ملی ہے۔لجنہ اماءاللہ ربوہ آپ کی قیادت میں آج پاکستان کی سب سے اعلیٰ اور معیاری کام کرنے والی لجنات میں سے ہے۔لجنہ اماءاللہ ربوہ کی ۱۹۵۳ء تا۱۹۵۸ء تک کی سرگرمیوں کا خلاصہ پیش کیا جاتا ہے۔لجنہ اماءاللہ ربوہ کی سرگرمیاں ۱۹۵۳ء تا ۱۹۵۸ء:- ۱۱ مئی ۱۹۵۳ء کو صاحبزادی سیدہ ناصرہ بیگم صاحبہ نے کام کا چارج لیا اور دفتر لجنہ اماءاللہ مرکزیہ میں ہی ایک کمرہ میں اپنا دفتر قائم کیا۔ایک کلرک دفتر کے لئے رکھی گئی۔سب سے پہلی کلرک مکرمہ فاطمہ بیگم صاحبہ اہلیہ مکرم کرم دین صاحب تھیں۔۱۹۵۷ء میں ان کے کام چھوڑ دینے پر چار ماہ مکرمہ سارہ قدسیہ صاحبہ بنت مکرم مولوی محمد ابراہیم صاحب خلیل نے کام کیا۔اپریل ۱۹۵۸ء سے مکر مہ ممتاز بیگم صاحبہ بطور کلرک کام کر رہی ہیں۔سب سے پہلا کام جو آپ کی نگرانی میں کیا گیا وہ ربوہ کی ممبرات کی فہرست کو مکمل کرنا تھا۔پھر لے رجسٹر کارروائی لجنہ اماءاللہ مرکزیہ