تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 25
25 25 ” جب قادیان میں ہندؤں اور سکھوں نے حملہ کیا تو شہر کے باہر کے ایک محلہ میں ایک جگہ پر عورتوں کو اکٹھا کیا گیا اور ان کی سردار بھی ایک عورت ہی بنائی گئی جو بھیرہ کی رہنے والی تھی۔یہ اس عورت نے مردوں سے بھی زیادہ بہادری کا نمونہ دکھایا۔ان عورتوں کے متعلق یہ خبریں آئی تھیں کہ جب سکھ یا ہند وحملہ کرتے تو وہ عورتیں ان دیواروں پر چڑھ جاتیں جو حفاظت کی غرض سے بنائی گئی تھیں اور ان سکتھوں اور ہندوؤں کو جو تلواروں اور بندوقوں سے حملہ آور ہوتے تھے بھگا دیتی تھیں اور سب سے آگے وہ عورت ہوتی تھی جو بھیرہ کی رہنے والی تھی اور ان کی سردار بنائی گئی تھی۔“ ہے (۳) سٹروع ضلع ہوشیار پور تحصیل گڑھ شنکر کا ایک بڑا گاؤں تھا جہاں پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں ہی ایک مخلص جماعت قائم ہوگئی تھی۔۱۹۴۷ میں یہاں پر ایک ہزار کے قریب ( مردوں اور بچوں سمیت ) احمدی آباد تھے۔۳۰۔اظہور ۱۳۲۶ھ مطابق ۳۰۔اگست ۱۹۴۷ء کو ۲۱ ہزار مسلح سکھوں نے اس گاؤں پر حملہ کر دیا۔اس وقت سٹروعہ میں صرف پانچ بند و قیں تھیں اور اس میں داخل ہونے کے لئے سات دڑے تھے جہاں سے سکھ با آسانی گاؤں میں داخل ہو سکتے تھے۔مسلمانوں نے یہ فیصلہ کیا کہ ہم مر جائیں گے مگر سکتھوں کو گاؤں میں داخل نہ ہونے دیں گے۔چنانچہ مسلمانوں نے ہتھیار ڈالنے سے انکار کر دیا اور ساتوں دڑوں پر حفاظتی چوکیاں قائم کر لیں۔جب سکھوں نے حملہ کیا تو دست بدست خونریز جنگ شروع ہو گئی۔مسلمانوں نے ناموافق حالات اور ہتھیاروں کی غیر معمولی کمی کے باوجود جان تو ڑ کر مقابلہ کیا جس کی وجہ سے مسلمان مستورات کی عزت و عصمت محفوظ رہی۔عین اس وقت جبکہ جنگ زوروں پر تھی اللہ تعالیٰ نے یوں ان کی مددفرمائی کہ اتفاق سے تین فوجی اپنا ٹرک لے کر ادھر آ نکلے اور انہوں نے بھی سکھوں پر گولیاں چلانا شروع کر دیں۔نتیجہ یہ ہوا کہ سکھوں میں سخت بھگدڑ مچ گئی اور وہ بھاگ نکلے۔اس جنگ میں بعض احمدی خواتین نے بھی جرات و دلیری سے حصہ لیا اورلٹر نے والے مردوں کو پانی پلانے کا کام کیا۔سترہ سے مسلمان جن میں متعد د مخلص احمدی شامل تھے شہید ہوئے جبکہ دوسری طرف۔۶۱۰ سکھ ہلاک ہوئے سے (۴) بہادری ، شجاعت اور شہادت کا ایک اور شاندار واقعہ بھی قابل ذکر ہے جو قرونِ اولیٰ کی محترمه خدیجه بیگم صاحبہ اہلیہ خان بہادر غلام محمد صاحب آف گلگت۔تاریخ وفات ( جولا ئی اے ا ء آپ صحابہ تھیں۔رساله مصباح ما صلح / جنوری ۱۹۵۷ء تاریخ احمدیت جلدا اصفحه ۸۰-۸۱