تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم

by Other Authors

Page 315 of 567

تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 315

315 کر دیا اور اس طرح اس مقدس وجود کا اس دنیائے فانی سے آخری تعلق بھی بظاہر منقطع ہو گیا جس کی خود اللہ تعالیٰ نے عرش پر تعریف فرمائی اور جو اس زمانہ کے مامور ومرسل سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زوجیت کا شرف حاص کر کے گویا حضور اقدس کی ذات بابرکت کا ہی ایک حصہ بن گیا تھا لیکن آپ کا نام ہمیشہ زندہ رہے گا کیونکہ خدا تعالیٰ نے اپنے پاک مسیح کو مخاطب کر کے فرمایا تھا:۔تیری ذریت منقطع نہیں ہوگی اور آخری دنوں تک سرسبز رہے گی۔خدا تیرے نام کو اس روز تک جود نیا منقطع ہو جائے عزت کے ساتھ قائم رکھے گا۔آخری علالت ، دعا ئیں اور صدقات :- حضرت ام المومنین کی طبیعت اس سال کے آغاز سے ہی بڑی ناساز چلی آتی تھی۔چلنا پھرنا عملاً متروک ہو چکا تھا۔وسط فروری سے کمزوری بڑھنے لگی۔شروع مارچ سے بخار رہنے لگا اور خوراک کم ہوگئی۔یہ کمزوری بڑھتی چلی گئی جس کا کسی قدر اثر دل پر ظاہر ہونے لگا۔بعض اوقات غنودگی کی کیفیت بھی پیدا ہو جاتی تھی۔جوں جوں آپ کی بیماری میں شدت پیدا ہوتی گئی۔جماعت میں کثرت سے صدقات دیئے گئے اور اجتماعی دعائیں کی گئیں۔چنانچہ لجنہ ربوہ اور بیرونی بجنات نے بھی کثرت سے صدقات دینے اور دعائیں کرنے کا اہتمام کیا لیکن آخر اللہ تعالیٰ کی مشیت غالب آئی۔اپریل کے دوسرے ہفتے میں بیماری نے تشویشناک صورت اختیار کر لی۔۱۵ را پریل کی شب کو آپ کی پاک روح قفس عنصری سے پرواز کر کے جنت النعیم میں مولائے حقیقی سے جاملی۔۲۱ اپریل کی شام کو مستورات کو آپ کی آخری زیارت کا موقع دیا گیا۔چنانچہ قریباً ڈیڑھ ہزار مستورات نے آپ کی آخری زیارت کا شرف حاصل کیا ہے تعزیتی قرار دادیں:۔آپ کی وفات پر جہاں جماعتوں اور تنظیموں نے تعزیت کے پیغام بھیجے اور قراردادیں منظور کیں وہاں لجنہ اماءاللہ مرکز یہ اور بیرونی لجنات نے بھی کثرت سے قرار دادیں پاس کیس اور جلسے منعقد کئے جن میں آپ کی سیرت بیان کی گی اور آپ کے شمائل کا تذکرہ کیا گیا۔ا اشتہار ۲۰ فروری ۱۸۸۶ء الفضل ۲۱ اپریل ۱۹۵۲ ص ۴۱ و الفضل ۲۳ اپریل ۱۹۵۲، ص ۱-۲