تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 24
24 لله یہ تھے وہ جذبات جو انتہائی مصائب و آلام کے ان ایام میں احمد کی خواتین نے اپنے ان عزیزوں کے متعلق ظاہر کئے جو قادیان کے پُر خطر ماحول میں اپنی جان کی بازی لگا کر مقامات مقدسہ کی حفاظت کر رہے تھے۔ان خطوط سے ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے احمدی مستورات نے اس موقع پر نہ صرف یہ کہ کسی قسم کی گھبراہٹ اور پریشانی کا اظہار نہ کیا بلکہ انہوں نے خطرات کی انتہائی سنگینی محسوس کرنے کے باوجود اپنے خاوندوں ، بھائیوں اور بیٹوں کا حوصلہ بڑھایا اور اس طرح انہیں جرات ودلیری کے ساتھ اپنے فرائض کو ادا کرنے کے قابل بنایا۔احمد می عورتوں کی بہادری اور جرات کے عملی نمونے: احمدی مستورات نے اپنی حجرات و دلیری اور عزم و استقلال کا اظہار صرف الفاظ تک محدود نہیں رکھا بلکہ جب بھی اور جہاں بھی انہیں موقع ملا انہوں نے اپنے عمل سے بھی یہ ثابت کر دیا کہ وہ قرونِ اولی کی صحابیات کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ہر ممکن قربانی پیش کر سکتی ہیں۔اس سلسلے میں انہوں نے قربانی ، بہادری ، جرات اور دلیری کے جو قابل قدر نمونے دکھائے افسوس ہے کہ ان کا مکمل ریکارڈ محفوظ نہیں ہے اور نہ ہی ان حالات میں محفوظ رہ سکتا تھا تا ہم سلسلہ کے اخبارات و جرائد میں اس کی جو مثالیں مل سکتی ہیں وہ درج ذیل کی جاتی ہیں۔(۱) ایک احمدی عورت مشرق پنجاب سے ہجرت کر کے بے سروسامانی کی حالت میں پاکستان پہنچی۔وہ اپنی جائیداد میں سے صرف کچھ زیور بیچا کر لاسکی تھی۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ اس نے زیور کا کچھ حصہ کسی غریب کو دے دیا اور باقی حضور کی خدمت میں حفاظت قادیان کے اخرجات کے لئے پیش کر دیا۔اے زیور عورت کی ایک محبوب چیز ہوتی ہے مگر اس مخلص احمدی عورت نے وہ زیور جو نہ جانے کس مصیبت سے بچا کر مشرقی پاکستان سے لائی تھی ازخود قادیان کی حفاظت کے لئے پیش کر دیا۔(۲) سید نا حضرت مصلح موعود خلیفتہ اسیح الثانی ایک اور احمدی خاتون کی مثال دیتے ہوئے فرماتے ہیں۔الفضل ۱۶۔اکتوبر ۱۹۴۷ء صفحہیہ کالم نمبر ۲