تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 304
304 میں جو فرائض ہوتے ہیں ان میں آپ کو کمال حاصل تھا اپنے ہاتھ سے کھانا تیار کرنا مہمانوں کی خدمت ، گھر کے سب ضروری کام باوجود خدمت گاروں کے خودسرانجام دیتی تھیں۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب اپنی تقریر ”سیرت طیبہ میں فرماتے ہیں۔حضرت اماں جان رضی اللہ تعالیٰ عنہا میں بے حد محنت کی عادت تھی اور ہر چھوٹے سے چھوٹا کام اپنے ہاتھ سے کرنے میں راحت پاتی تھیں۔میں نے انہیں اپنی آنکھوں سے بارہا کھانا پکاتے ، چرخہ کاتے ، نواڑ بنتے بلکہ بھینسوں کے آگے چارہ تک ڈالتے دیکھا ہے۔بعض اوقات خود بھنگنوں کے سر پر کھڑے ہو کر صفائی کرواتیں تھیں اور ان کے پیچھے لوٹے سے پانی ڈالتی جاتی تھیں۔گھر میں اپنے ہاتھ سے پھولوں کے پودے یا سیم کی بیل یا دوائی کی غرض سے گلو کی بیل لگانے کا بھی شوق تھا اور عموما انہیں اپنے ہاتھ سے پانی دیتی تھیں۔سلسلہ کے لئے حضرت ام المومنین کی مالی قربانیاں:۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور آپ کے بعد آپ کے خلفاء کی آواز پر لبیک کہنے والوں میں بھی حضرت ام المومنین کا نام سر فہرست ہے۔سلسلہ کے لئے کوئی ایسی تحریک نہیں ہوئی جس میں آپ نے فراخ دلی سے حصہ نہ لیا ہو۔مساجد تبلیغی مشن لنگرخانہ، لجنہ اماءاللہ کی تحریکات ،لندن مسجد ، بران مسجد، اخبار الفضل کا اجراء، منارة امسیح تحریک جدید غرض ہر تحریک کی ابتداء آپ کے چندہ سے ہی ہوئی۔یہاں صرف چند قربانیوں کا ذکر کرنا کافی ہوگا۔ذیل میں حضرت عرفانی صاحب کا ایک مضمون جو منارة امسیح اور حضرت ام المومنین کے عنوان سے الحکم میں آپ نے تحریر فرمایا درج کیا جاتا ہے یہ مضمون اس جذبہ قربانی کی ایک روشن دلیل ہے جو حضرت ام المومنین کے دل میں موجزن تھا۔منارة اسبح اور حضرت ام المومنین : انہیں ایام میں آپ کے دل میں ڈالا گیا کہ منارہ مسیح تعمیر کیا جاوے اس کے لئے پہلے لے سیرت طیبہ از حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ص ۱۰۴