تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم

by Other Authors

Page 303 of 567

تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 303

303 دیا کرتی تھیں کہ گھبراؤ نہیں خدا کے فضل سے اچھی ہو جاؤ گی۔ان اخلاق فاضلہ کا یہ نتیجہ تھا کہ احمدی عورتیں حضرت اماں جان پر جان چھڑکتی تھیں اور ان کے ساتھ اپنی حقیقی ماؤں سے بڑھ کر محبت کرتی تھیں اور جب کوئی فکر کی بات پیش آتی تھی یا کسی امر میں مشورہ لینا ہوتا تھا تو حضرت اماں جان کے پاس دوڑی آتی تھیں۔اس میں ذرہ بھر بھی شبہ نہیں کہ حضرت اماں جان کا مبارک وجود احمدی مستورات کے لئے ایک بھاری ستون تھا بلکہ حق یہ ہے کہ ان کا وجود محبت اور شفقت کا ایک بلند اور مضبوط مینا ر تھا جس کے سایہ میں احمدی خواتین بے انداز راحت اور برکت اور ہمت اور تسلی پاتی تھیں۔یتامی پر شفقت :۔حضرت قمر الانبیاء صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب فرماتے ہیں:۔حضرت اماں جان نَوَّرَ اللَّهُ مَرْقَدَهَا کو اسلامی احکام کے ماتحت یتیم بچوں کی پرورش اور تربیت کا بھی بہت خیال رہتا تھا۔میں نے جب سے ہوش سنبھالا ان کے سایہ عاطفت میں ہمیشہ کسی نہ کسی یتیم لڑکی یا لڑکے کو چلتے دیکھا اور وہ یتیموں کو نوکروں کی طرح نہیں رکھتی تھیں بلکہ ان کے تمام ضروری اخراجات برداشت کرنے کے علاوہ ان کے آرام و آسائش اور ان کی تعلیم و تربیت اور ان کے واجبی اکرام اور عزت نفس کا بھی بہت خیال رکھتی تھیں۔اس طرح ان کے ذریعہ بیسیوں یتیم بچے جماعت کے مفید وجود بن گئے۔بسا اوقات اپنے ہاتھ سے یتیموں کی خدمت کرتی تھیں۔مثلاً یتیم بچوں کو نہلانا ، ان کے بالوں میں لکھی کرنا، کپڑے بدلوانا وغیرہ۔مجھے یقین ہے کہ حضرت اماں جان الله رسول پاک ﷺ کی اس بشارت سے انشاء اللہ ضرور حصہ پائیں گی کہ آنَا وَكَافِلُ الْيَتِيم کھاتین یعنی قیامت کے دن میں اور یتیموں کی پرورش کرنے والا شخص اس طرح اکھٹے ہوں گے جس طرح کہ ایک ہاتھ کی دو انگلیاں باہم پیوست ہوتی ہیں۔“ اپنے ہاتھ سے کام کرنے کی عادت:۔جن بہنوں نے حضرت ام المومنین کو دیکھا ہے وہ سب جانتی ہیں کہ عورت کے اپنے گھر ے سیرت طیبہ از حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ص ۱۰۵ سیرت طیبہ از حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ص ۱۰۱