تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 291
291 اس بشارت کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں:۔یہ ایک بشارت کئی سال پہلے اس نکاح کی طرف تھی جو سادات کے گھر میں دہلی میں ہوا جس سے بفضلہ تعالیٰ چارلڑ کے پیدا ہوئے۔اور خدیجہ اس لئے میری بیوی کا نام رکھا کہ وہ ایک مبارک نسل کی ماں ہے جیسا کہ اس جگہ بھی مبارک نسل کا وعدہ تھا اور نیز یہ اس طرف اشارہ تھا کہ وہ بیوی سادات کی قوم میں سے ہوگی۔‘1 اللہ تعالیٰ نے اس رشتہ کی بشارت دینے کے علاوہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو یہ بھی خوشخبری دی کہ اس کا سب سامان خود اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوگا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں:۔ایک مرتبہ مسجد میں بوقت عصر یہ الہام ہوا کہ میں نے یہ ارادہ کیا ہے کہ تمہاری ایک اور شادی کروں یہ سب سامان میں خود ہی کروں گا اور تمہیں کسی بات کی تکلیف نہیں ہوگی۔اس میں یہ ایک فارسی فقرہ بھی ہے۔ہر چہ باید نو عروسے راہماں ساماں کنم وانچه مطلوب شما باشند عطائے آں کنم اور الہامات میں یہ بھی ظاہر کیا گیا کہ وہ قوم کے شریف اور عالی خاندان ہوں گے چنانچہ ایک الہام میں تھا کہ خدا نے تمہیں اچھے خاندان میں پیدا کیا اور پھر اچھے خاندان سے دامادی تعلق بخشا۔سو قبل از ظهور یہ تمام الہام لالہ شرمیت کو سنا دیا گیا پھر بخوبی اسے معلوم ہے کہ بغیر ظاہری تلاش اور محنت کے محض اللہ تعالیٰ کی طرف سے تقریب نکل آئی یعنی نہایت نجیب اور شریف اور عالی نسب۔۔۔بزرگوار خاندان سادات سے یہ تعلق قرابت اس عاجز کو پیدا ہوا اور اس نکاح کے تمام ضروری مصارف تیاری مکان وغیرہ تک ایسی آسانی سے خدا تعالیٰ نے بہم پہنچائے کہ ایک ذرہ بھی فکر کرنا نہ پڑا اور اب تک اسی اپنے وعدہ کو پورا کئے چلا جاتا ہے۔“ ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ نے حضرت ام المومنین کے وجود کی بشارت کے ساتھ یہ بھی بتایا کہ ایک شریف خاندان میں آپ کا رشتہ ہو گا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :۔! نزول المسیح ص ۱۴۶ ص ۱۴۷ ۲ شحنه حق ص ۵۸۵۷