تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 269
269 ۲۲ محتر مہ اہلیہ صاحبہ میرحمیداللہ صاحب سکھر ! جو تبلیغی وفود بھجوائے گئے ان کی تفصیلی رپورٹیں درج ذیل ہیں:۔(1) تبلیغی وفد چنیوٹ :۔پہلا وفد ۱۸ فروری ۱۹۵۱ء کو تین بجے شام پانچ ممبرات پر مشتمل ربوہ سے چنیوٹ گیا۔محترمہ بیگم صاحبہ محترم سید محمود اللہ شاہ صاحب مرحوم کے ہاں غیر احمدی معزز مستورات کے لئے ایک ٹی پارٹی کا انتظام تھا۔بعض احمدی خواتین بھی علاوہ صدر لجنہ اور سیکرٹری لجنہ مدعو تھیں۔زنانہ سول ہسپتال کی لیڈی ڈاکٹر ، لیڈی ہیلتھ وزیٹر، بعض افسران شہر کی بیگمات، اسلامیہ سکول اور گورنمنٹ سکول کی استانیاں اور ضلع جھنگ کی اے۔ڈی۔آئی (ایڈیشنل انسپکٹرس ) مدعو تھیں۔محترمہ بیگم صاحبہ مرزا عزیز احمد صاحب نے قادیان کے کچھ حالات سنائے اور یہ بھی بتایا کہ ہمارے ربوہ میں قریباً دنیا کے ہر حصے کے آدمی موجود ہیں۔حال ہی میں ایک جرمن نومسلم اور ایک امریکن نو مسلم کی شادیاں دو احمدی پنجابی لڑکیوں سے ہوئی ہیں اور یہ شادیاں اسی غرض کے ماتحت کرائی گئی ہیں تا کہ قوموں کا باہمی تعصب دور ہو۔ان باتوں نے ان پر اچھا اثر کیا۔اس وفد نے یوم مصلح موعود پر انہیں آنے کی دعوت دی۔محترمہ استانی میمونہ صوفیہ صاحبہ نے ہر ایک کو دو دوٹریکٹ احمدی اور غیر احمدی میں کیا فرق ہے؟“ اور ” احمدیت کا پیغام دیئے جن کو انہوں نے بخوشی قبول کیا۔امیر قافلہ محترمہ استانی میمونہ صوفیہ تھیں۔رات 9 بجے کی ٹرین سے یہ وفد واپس آیا۔اس وفد میں مندرجہ ذیل ممبرات شامل تھیں :۔۱- محترمہ بیگم صاحبہ محترم مرزا عزیز احمد صاحب ۲ محترمه استانی میمونه صوفیه صاحبه ۴۔محترمہ نصیرہ نزہت صاحبہ ۳ محترمه استانی حمیده صابره صاحبه ۵ محترمه مسعوده صمد صاحبہ بنت چوہدری ابوالہاشم صاحب بنگالی سے (۲) تبلیغی وفد سرگودھا: ۲۵ ماه تبلیغ بروز اتوار زیر انتظام لجنه مرکز یہ پانچ ممبرات پر مشتمل ایک گروپ جس میں محترمہ بیگم صاحبہ مرزا عزیز احمد صاحب، محترمہ صاحبزادی امتہ الباسط بیگم صاحبہ، محترمه استانی میمونہ صوفیہ صاحبہ، محترمہ اہلیہ صاحب محترم عبد الشکور صاحب کنزے اور محتر مہامتہ اللہ خورشید لے رجسٹر کارروائی لجنہ اماءاللہ مرکز یہ ه مصباح ماه اپریل ۱۹۵۱ء ص ۳۵