تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم

by Other Authors

Page 256 of 567

تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 256

256 حضور نے فرمایا کہ اس کا نووکیشن کی ڈگری کے حصول کے لئے جو امتحان پاس کرنا پڑتا ہے اس کے دس پرچے ہیں جو یہ ہیں :۔پہلا پرچہ ہے نفس کی قربانی کا۔یعنی اللہ تعالیٰ کے آستانہ پر اپنی گردن رکھ دینا اور اس کی رضا اور قضاء و قدر کو دلی بشاشت کے ساتھ قبول کرنا۔یہ ایک خالص روحانی ذہنیت پیدا کرنے کا پرچہ ہے۔جیسے ہم کہتے ہیں کہ فلاں لڑکی ہر وقت مطالعہ میں مصروف رہتی ہے اس کا دھیان ادھر ادھر نہیں جاتا۔غرض اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو میرا امتحان ہے اس کا ایک پرچہ یہ ہے کہ تمہاری ذہنیت روحانی طور پر کیسی ہو اور میں تم سے یہ چاہتا ہوں کہ تم یہ ذہنیت اپنے اندر پیدا کرو کہ ہر وقت اللہ تعالیٰ کے آستانہ پر جھکے رہو اورس کی رضا کے حصول کے لئے اور اس کے فیصلوں کو قبول کرتے وقت دلی بشاشت کا اظہار کرو۔یہ ہے پرچہ نمبر۔اگر اسے ایک لفظ میں ظاہر کرنا ہو تو اس کا نام ہے ”اسلام“۔اسلام کا لفظ مختلف معنی میں استعمال ہوا ہے۔قرآن کریم میں بھی اور دوسری کتب میں بھی۔لیکن اسلام کے ایک ایسے معنے ہیں جو ایمان سے بھی ارفع اور اعلیٰ ہیں اور یہی معنے یہاں مراد ہیں۔دوسرا پر چہ ہے زبان کا اقرار، دل کا اعتقاد اور عملی زندگی میں صدق وصفا اور وفا کا ثبوت دینا۔یہ دوسرا پر چہ ہے۔اس کا نام ہے ایمان۔پہلا پرچہ ذہنیت کے ساتھ تعلق رکھتا ہے اور یہ پرچہ اقرار اور اس اقرار کو عملی زندگی میں ثابت کرنے سے تعلق رکھتا ہے۔تیسرا پر چہ ہے اللہ تعالیٰ کی کامل اطاعت ایسے رنگ میں کہ اس کی عظمت اور ہیبت دل پر طاری ہو اور اپنی پستی اور تواضع کا احساس زندہ رہے۔اللہ تعالیٰ کی عظمت جس دل پر جلوہ گر ہوتی ہے وہ اس کا اپنا کچھ باقی نہیں چھوڑتی اور یہ احساس پوری طرح زندہ اور بیدار کر دیتی ہے کہ وہ اپنی ذات میں لاشئی محض ہے۔نیستی کا لبادہ وہ پہنتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی عظمت کے گن گاتے ہوئے زندگی کے دن گزارتا ہے۔اس پر چہ کے آگے کئی چیپٹر (CHAPTER) ہیں۔اس پر چہ میں یہ بھی آتا ہے کہ یہ رنگ کامل اطاعت کا پیدا نہیں ہوسکتا جب تک آخرت کا خوف نہ ہو۔یعنی جب تک اس یقین پر انسان قائم نہ ہو کہ کوئی امتحان ہونا ہے۔جب اس دنیا میں یورنیورسٹی یہ اعلان کرے کہ بعض ایسے حالات پیدا ہو گئے ہیں کہ ہم نہیں کہہ سکتے کہ بی۔اے کا امتحان کن تاریخوں میں ہوگا تو بہت سے ست طالب