تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم

by Other Authors

Page 248 of 567

تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 248

248 نے اس سلسلہ میں محترمہ بیگم صاحبہ صاحبزادہ مرزا منصور احمد صاحب صدر لجنہ اماءاللہ ربوہ کا تعاون حاصل کیا۔سیدہ موصوفہ کے ارشاد کے تحت محلہ جات ربوہ کی صدر وسیکرٹری صاحبان نے طالبات کے ساتھ پورا پورا تعاون کیا۔ہر گھر میں طالبات کا تنہا جانا معیوب بھی تھا اور ناممکن بھی اس لئے وہ دو ممبرات محلہ کے ساتھ مل کر گھروں کا چکر لگاتیں۔خواتین کو بچوں اور گھروں کی صفائی کی طرف توجہ دلاتیں۔اسی طرح ہسپتال میں بیماروں کی تیمارداری بھی کی گئی نیز گھر یلوخواتین کو دلچسپ رسالہ جات مطالعہ کیلئے مہیا کر کے دیئے گئے تاوہ زیادہ سے زیادہ وقت اپنے گھروں میں گزار سکیں۔مجلس طالبات قدیم جامعہ نصرت :۔جامعہ نصرت میں ۱۹۶۵ء میں پہلی مجلس طالبات قدیم منعقد ہوئی۔ہر سال جلسہ تقسیم اسناد کے موقع پر اسی روز شام کو طالبات قدیم اور طالبات جدید کے درمیان میچ منعقد کیا جاتا ہے۔اس کے بعد طالبات اپنا اجلاس کرتیں اور باہمی مشورہ سے آئندہ سال کے پروگرام تجویز کرتی ہیں۔چنانچہ ۱۹۶۸ء میں طالبات قدیم نے مسجد جامعہ نصرت کی تعمیر کا بیڑہ اٹھایا اور محترمہ مسز شاہ صاحبہ کے توجہ دلانے پر چھ ہزار کی رقم چندہ کے طور پر جمع کی لیکن اگلے سال محترمہ پرنسپل صاحبہ نے فرمایا کہ اول تو یہ رقم ہی ناکافی ہے اور دوسرے محترم چوہدری محمد تقی صاحب اپنی بیگم محترمہ لیڈی ڈاکٹر غلام فاطمہ صاحبہ مرحومہ کے نام پر یہ مسجد بنوانا چاہتے ہیں چنانچہ اس کی اجازت کے لئے حضرت خلیفہ اسیح الثالث ایدہ اللہ تعالیٰ کی خدمت میں درخواست کی گئی اور حضور نے محترمہ غلام فاطمہ صاحبہ مرحومہ کے نام پر مسجد بنانے کی اجازت مرحمت فرما دی اور مسجد کا سنگ بنیا د سائنس بلاک کے ساتھ ہی رکھا۔مسجد ابھی زیر تعمیر ہے۔محترمہ پرنسپل صاحبہ نے طالبات قدیم کی جمع شدہ رقم کسی اور رفاہ عامہ کے کام میں صرف کرنے کا مشورہ دیا چنانچہ پرنسپل صاحبہ کی تحریک پر طالبات نے جمع شدہ رقم کالج کی لائبریری کو دینے کا فیصلہ کر دیا اور درخواست کی کہ وہ لائبریری کا ایک مخصوص حصہ طالبات قدیم کے نام پر تعمیر کر دیں۔لجنہ جامعہ نصرت کا قیام :۔ہوٹل جامعہ نصرت میں تو ابتداء سے ہی لجنہ قائم تھی۔۱۹۶۳ء میں لجنہ جامعہ نصرت کا قیام عمل میں لایا گیا۔